خطبات محمود (جلد 11) — Page 530
خطبات محمود سال ۱۹۲۸ء سکتی ہے اور یہی وجہ ہے جسے مد نظر رکھتے ہوئے دوبارہ تحریک کی جا سکتی ہے اور اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے آج میں دوبارہ تحریک کرتا ہوں۔میرے نزدیک جلسہ کے اخراجات کی برداشت قادیان کے رہنے والوں یا زیادہ سے زیادہ ضلع گورداسپور کے احمدیوں کو کرنی چاہئے کیونکہ مہمان نوازی مقامی لوگوں کا ہی حق ہوتا ہے اور مقامی مہمان نوازی انہی لوگوں کے ذمہ ہوتی ہے جہاں وہ کام کیا جاتا ہے۔اسلام نے مہمان نوازی پر جس قدر زور دیا ہے اسے مد نظر رکھتے ہوئے یہ کوئی بڑی بات نہیں۔دنیا میں لوگ اس کو سے بہت بڑے بڑے کام کرتے ہیں لیکن نقص یہ ہے کہ بہت سے لوگ اس کی اہمیت کو نہیں سمجھتے اور بہت سے لوگوں کے دلوں میں وہ تو شکل نہیں جس کی ایسے کاموں کے لئے ضرورت ہوتی ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ چند چیزیں ایسی ہیں جن کا کرنے والا قیامت کے دن خدا تعالیٰ کے عرش کے سایہ کے نیچے ہو گا۔اور ان میں ایک وہ دوستی ہے جو انسان خدا تعالیٰ کے لئے کسی سے رکھے۔ا یعنی محض اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی کی خدمت کرے۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ ہمارے جلسہ کی مہمان نوازی اسی قسم کی دوستی پر مبنی ہے۔جو لوگ مہمان ہوتے ہیں ان میں کئی ایک کی شکلوں سے بھی ہم لوگ واقف نہیں ہوتے اور ان سے کوئی تعارف نہیں ہوتا اس لئے یہ مہمان نوازی محض اللہ تعالی کے لئے ہی ہو سکتی ہے۔پھر حضرت خدیجہ سے روایت کہ وحی نبوت کے نزول کے وقت جب آنحضرت ا پر خوف طاری ہوا تو انہوں نے آپ سے کہا خدا تعالٰی آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا کیونکہ آپ مہمان نواز ہیں۔تا گویا مہمان نوازی ان چیزوں میں سے ہے جن سے انسان ضائع ہونے سے بچ جاتا ہے۔بات یہ ہے جو مال صحیح مہمان نوازی پر صرف ہو وہ انسان کی تباہی کا موجب نہیں بلکہ انسان کی ترقی کا موجب تا ہے۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں ایک دفعہ اسی طرح قحط کے آثار تھے۔انجمن نے فیصلہ کیا کہ جلسہ تین دن کے بجائے صرف دو دن کیا جائے۔میں گو اس کی تائید میں نہ تھا مگر مخالف بھی نہ تھا اور اس وقت میرے ذہن میں یہ آیا ہی نہیں کہ اس کا کیا نتیجہ ہو گا اور اتفاق کی بات ہے ان دنوں میں ہی مہمان خانہ کا منتظم تھا۔حضرت خلیفہ اول نے مجھے مخاطب کر کے لکھا کہ لَا تَخْشَ عَنْ ذِي الْعَرْشِ اقْلَالاً