خطبات محمود (جلد 11) — Page 528
خطبات محمود ۵۲۸ سال ۶۱۹۲۸ |- اور مفید ہے۔اور جرات و بہادری پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔مثلاً کل جو لڑکے چھت سے کودتے تھے وہ نہایت جرات اور بہادری کا کام ہے میں سمجھتا تھا میں تو نہیں کو د سکتا لیکن چھ چھ سات سات برس کے لڑکے نہایت بے باکی سے کود رہے تھے۔اس قسم کی باتوں سے فوجی سپرٹ پیدا ہوتی ہے اس لئے ناظر بے شک ان میں حصہ لیں مگر انتظامی امور میں حصہ نہ لیں۔پھر اس قسم کی کھیلیوں کے کام جلسہ کے قریب نہیں ہونے چاہئیں تا توجہ زائل نہ ہو۔کارکنوں کو عقل اور دماغ پر زور دے کر ایسی تجاویز نکالنی چاہئیں کہ جلسہ کا خرچ بھی کم ہو اور انتظام بھی بہتر ہو سکے۔باقی آدمی اور روپیہ کا لانا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔کسی نے کہا ہے خود کو زہ و خود کوزہ گرو خود گل کو زہ۔اگر چہ یہ ہمہ اوست کا خیال ہے اور ان معنوں میں غلط ہے مگر اس میں شک نہیں کہ یہ اسی کا کام ہے۔وہی روپیہ لانے والا ہے اور وہی لوگوں کو لانے والا ہے اور اسی سے دعا کرنے چاہئے کہ سب سامان درست ہو جائیں۔خطبہ ثانیہ میں فرمایا :- اگر چہ خطبہ میں بولنا منع ہے مگر کسی نے سوال کیا ہے کہ عورتیں بھی ٹورنامنٹ دیکھنے جاتی ہیں۔میرے خیال میں یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں۔عورتیں کیوں نہ دیکھیں جب کہ انہوں نے بچے پیدا کرنے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے خود حضرت عائشہ کو جیشیوں کے کرتب دکھائے۔پھر آپ ایک مرتبہ لڑائی سے واپس آرہے تھے تو لشکر کے سامنے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ کی۔اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بڑھ گئیں۔پھر ایک دفعہ آپ بڑھ گئے اور فرمایا عائشہ تلكَ بِتِلْكَ یعنی یہ بدلا ہو گیا۔ہے اگر عورتیں برقعہ پہن کر چل پھر سکتی ہیں تو وہاں جا کر بیٹھ جانے میں کیا حرج ہے۔بخاری کتاب الصلوۃ باب اصحاب الحرب في المسجد الفضل ۳۰ / نومبر ۱۹۲۸ء) ابوداؤ د کتاب الجھا باب في السبق على الرجل میں هَذِهِ بتِلكَ السَّبَقَةِ کے الفاظ ہیں۔