خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 45

خطبات محمود ۴۵ سال 1927ء کوئی تبدیلی پیدا ہو جانی چاہئے۔یہ بھی اگر نہیں تو کم از کم ایک ماہ کے بعد ہی کوئی اثر پیدا ہونا چاہئے۔اور اگر اس عرصہ میں بھی کوئی اثر پیدا نہیں ہوا۔اور دعا کرنے والے کی حالت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تو کم از کم وہ سال جن کے ساتھ اس کی زندگی گئی جاتی ہے اس قسم کے ہونے چاہئیں جن میں تبدیلی ہو۔اور ہر سال اپنے پہلے سال سے بڑھ کر ترقی پر ہو۔لیکن اگر اس حد تک پہنچ کر بھی کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی۔اور باوجود سال بھر دعا کرنے کے کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا۔اس کے علم میں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔اس کے عمل میں کوئی مضبوطی نہیں ہوئی۔اس کے اخلاق میں کوئی زیادتی نہیں ہوئی۔تو سمجھ لینا چاہئے۔کہ اس کی دعا میں فرق تھا۔اور اس وقت پھر حالت بدلنے کی کوشش کرنی چاہئے یا تو دعا کرنے والے کے اخلاص میں فرق ہوتا ہے کہ وہ اخلاص سے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ المستقيم نہیں کہتا بلکہ رسمی طور پر کہتا ہے اس لئے اس کا اثر نہیں ہو تا۔یا اس کے ساتھ کچھ اور نقص پیدا کر لیتا ہے جس سے کوئی اثر اور تبدیلی پیدا نہیں ہوتی۔ورنہ دعا ایسی چیز نہیں کہ اسے بے اثر کہا جائے۔پس ایسا آدمی اگر اِهْدِنَا القِرَاطَ الْمُقِيمَ کے معنے یہ نہیں خیال کرتا کہ موجودہ مقام سے ترقی ہے۔اور اگر صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں محمد رسول الله الله حضرت موسی ، حضرت عیسی وغیرہ تمام خدا کے نبی مد نظر نہیں ہوتے۔بلکہ صرف یہ جملہ ہی سامنے ہوتا ہے تو ایسا شخص منزل مقصود پر نہیں پہنچ سکتا اور اس کے اندر کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اور اسے کوئی ترقی نہیں ملتی۔کیونکہ وہ دعا نہیں کرتا بلکہ ایک جملہ رہتا ہے۔بعض دفعہ دعا مانگنے والا اس کے آئیڈیل (Ideal) کی طرف توجہ نہیں کرتا۔تو اس وجہ سے دعا قبول نہیں ہوتی۔اور کبھی دعا کے ساتھ کچی تڑپ نہیں ہوتی۔اور نہ ہی دعا کرنے والا اصلی کوشش کرتا ہے۔اس لئے دعا قبولیت کے مقام تک نہیں پہنچتی۔پھر دعا کے واسطے توجہ اور یقین کی ضرورت ہے۔ایک شخص کو دعا کرتے وقت اس بات کا یقین ہونا چاہئے کہ جو کچھ میں مانگ رہا ہوں وہ دیا جائے گا۔گو یہ ضروری ہے کہ دعا کے ساتھ توجہ ہو۔گو یہ ضروری ہے کہ دعا کے ساتھ یقین ہو۔گو یہ ضروری ہے کہ دعا کے ساتھ کچی تڑپ اور اصلی کوشش ہو۔لیکن اس کے ساتھ تدبیر کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔جو انسان دعا بھی کرتا ہے اور تدبیر بھی کرتا ہے۔وہ کامیابی کا منہ بہت جلد دیکھ لیتا ہے۔ایک دفعہ ایک بزرگ کے پاس ایک سپاہی آیا کہ حضور دعا کریں کہ میرے گھر اولاد ہو۔جواب میں انہوں نے کہا بہت اچھا ہم دعا کریں گے وہ شخص اٹھا اور گھر جانے کی بجائے کہیں اور جانے لگا۔