خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 503

خطبات محمود ۵۰۳ سال ۱۹۲۸ء اس کے یہ معنی نہیں کہ آپس میں ان کی کبھی شکر رنجی ہوگی ہی نہیں یہ ناممکن ہے اور یہ بات علم غیب سے تعلق رکھتی ہے۔اور علم غیب نہ سب لوگوں کو حاصل ہو سکتا ہے اور نہ سب لوگ شکر رنجی سے آزاد ہو سکتے ہیں۔جو بات بری ہے وہ اس حالت کی شدت ہے۔یعنی معمولی شکر رنجی کی بات کو اس طرح چلانا کہ گویا زمین و آسمان کے قیام کا مدار اسی ایک بات پر ہے۔شکر رنجی تو بڑے بڑے لوگوں میں بھی ہو جاتی ہے خود رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی حضرت ابو بکر اور حضرت عمر میں شکر رنجی ہو گئی اور حضرت عمر کی طبیعت چونکہ تیز تھی۔اس لئے ضروری تھا کہ قدرتاً ان سے زیادہ تیزی ظاہر ہوتی لیکن اس جھگڑے کے بعد حضرت ابو بکر اس بات کو بالکل دل سے نکال کر رسول کریم ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو گئے اور حضرت عمر کو جب محسوس ہوا کہ آپ غلطی پر ہیں تو وہ بھی حضور کی مجلس میں دوڑے ہوئے آئے اور چاہا کہ رسول کریم کے سامنے اپنی براءت کریں۔رسول مقبول ا نے آپ کے فعل کو ناپسند فرمایا لیکن حضرت ابو بکر نے آپ کی سفارش کی۔گویا جب رسول کریم ﷺ حضرت عمرہ پر ناراض ہونے لگے تو اس بات کا سب سے زیادہ دکھ حضرت ابو بکر کو ہی ہوا اور یہ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ کی مثال ہے۔گویا جس طرح ایک ماں اپنے بچے کے متعلق اس کے استاد کو کہتی ہے کہ یہ بہت شریر ہے اسے خوب مارو لیکن جب وہ مارتا ہے تو سب سے زیادہ دکھ بھی ماں کو ہی ہوتا ہے۔یہی مثال صحابہ کی تھی اور ا شِدَاء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ کی صفت ان میں کمال درجہ پر تھی۔وہ لوگ جو برسوں دشمنوں کے مقابل میں اپنی جانیں قربان کرتے رہے۔جن کے دل بہادری سے پُر تھے اور جن میں قوت برداشت اس قدر زیادہ تھی کہ شدید ترین زخموں کی حالت میں بھی اپنے نفس سے بے خبر ہوتے تھے۔ایک صحابی کی جنگ احد میں دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں بلکہ ان کا تمام دھڑ تلوار سے چرا ہوا تھا۔ان کا ایک رشتہ داران کو بہت تلاش کرنے کے بعد ان تک پہنچا اب ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں انسان کو کس قدر مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔لیکن ان میں برداشت کی طاقت اس حالت میں بھی اس قدر تھی کہ جب وہ رشتہ دار تیمار داری کی فکر کرنے لگا تو انہوں نے کہا کہ ان باتوں کو چھوڑ دو اور میرے پاس ہو کر میری بات سنو۔جس وقت وہ پاس بیٹھے تو پہلے ان کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ اب میں رسول مقبول ا سے نہیں مل سکتا اس لئے میں تمہارے ذریعہ سے رسول کریم ﷺ سے مصافحہ کرتا ہوں۔اور دوسری نصیحت میں یہ کرتا ہوں کہ میرے اعزاء کو کہہ دینا کہ میں مر رہا ہوں اور تمہیں یہ