خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 497

خطبات محمود ۴۹۷ سال ۴۱۹۲۸ کے خلاف لوگوں کو اکسانا اور مشتعل کرنا نہیں اور نہ اس طرح کسی کے عقائد کی صداقت ثابت ہو سکتی ہے مگر ذاتیات کے متعلق کچھ نہیں لکھنا چاہئے۔اس میں شک نہیں کہ یہ پابندی بہت بھاری معلوم ہوگی اور کہا جائے گا کہ وہ لوگ ایک عرصہ تک بہتان سازی اور افتراء پردازی کرتے رہے ہیں لیکن جب ہم نے جواب دینا شروع کیا ہے تو روک دیا گیا ہے۔مگر یہ پابندی خواہ کتنی ہی تلخ ہو بہر حال اس کا ماننا ضروری ہے کیونکہ یہ اس شیریں ہستی کی طرف سے ہے جس سے شیریں اور کوئی چیز نہیں ہے۔چونکہ ہمارا مولا کہتا ہے کہ ایسے موقع پر تم یوں کرو اس لئے ہمیں اسی طرح کرنا چاہئے اور خوشی سے کرنا چاہئے۔پس تم اس تلخ گھونٹ کو پی لو کیونکہ یہ سب سے پیارے کی طرف سے پلایا جا رہا ہے۔اگر اس کا کوئی نقصان ہو گا تو یاد رکھو ہمارا آقا غدار اور دھوکا باز نہیں۔وہ بے وفائیوں کو نظر انداز کر کے بھی وفا کرتا ہے۔اگر اس کے لئے ہم تکلیف اٹھا ئیں گے تو کیوں نہ ہمارے نقصان کو دور کرنے کا انتظام کرے گا۔میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے اخبار نویس اس بات کو مد نظر رکھیں گے کہ اخبار میں کوئی ایسی بات نہ ہو جو ذاتیات پر حملہ ہو۔باقی رہا لوگوں میں زبانی باتیں کرنا اگر غیر مبائعین اس میں بھی ہتھیار ڈال دیں گے اور فتنہ انگیزی کے اس طریق سے باز آجائیں گے تو ہم بھی ان کے متعلق زبانی باتیں بیان کرنا بند کریں گے۔اس سے پہلے معاہدہ کا جو تلخ تجربہ ہوا ہے اس کی وجہ سے کہنا پڑتا ہے کہ آئندہ اگر کوئی معاہدہ ہوا تو ایک کمیٹی بنانا پڑے گی جو یہ دیکھتی رہے کہ کون اس معاہدہ کی خلاف ورزی کرتا ہے اور خلاف ورزی کرنے والے کے متعلق ضروری کارروائی کرے۔مگر میرے اس خطبہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ غیر مبائعین نے مقدمہ بازی کے جو نوٹس دیتے ہیں وہ چھوڑ دیں۔انہوں نے جو نوٹس دیئے ہیں ان کے متعلق میں کہتا ہوں بے شک چلا ئیں اور ضرور چلا ئیں۔مؤمن کبھی ڈر کر ہتھیار نہیں پھینکا کرتا۔ہم نے پہلے بھی ان پر حملے نہ کئے تھے مجبوراً دوستوں کو ان کے بار بار کے حملوں کے جواب میں قلم اٹھانا پڑا تھا۔تاہم ابھی دو ہی جمعے گذرے ہیں کہ میں نے خطبہ جمعہ میں ایک مضمون کے متعلق جتنی سختی سے کوئی کچھ کہہ سکتا تھا نوٹس لیا لیکن میں ہر ایک کو اس بات کے لئے مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ اتنا ہی حوصلہ دکھائے جتنا میں خود دکھاتا ہوں۔میرے لئے اور مقام ہے اور دوسروں کے لئے اور۔پس میں نے ذاتیات کے متعلق لکھنے سے جو روکا ہے یہ اس لئے نہیں کہ غیر مبالکین مقدمات چھوڑ دیں جب وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ہتک ہوئی ہے اور اس ہتک کا علاج سوائے مقدمہ بازی کے اور کوئی