خطبات محمود (جلد 11) — Page 485
خطبات محمود ۴۸۵ سال ۱۹۲۸ء ہے اسی طرح مذہب بھی دنیا سے نشو و نما پاتا ہے۔پس ایک حد تک دنیوی امور کی طرف متوجہ ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔جس طرح وہ شخص نادان ہے جو زینہ پر ہی بیٹھا رہے اور چھت پر نہ چڑھے اسی طرح وہ بھی نادان ہے جو زینہ چھوڑ دے اور دیوار پھاند کر چھت پر جانے کی کوشش کرے۔بعض حالتوں میں زینہ سے کام لینا ضروری ہوتا ہے اگر اسے بالکل چھوڑ دیا جائے تو انسان کامیابی سے محروم رہ جاتا ہے اسی طرح اگر کوئی اس کا ہو رہے تب بھی وہ اصل مقصد ہے محروم رہتا ہے۔یہی حال دنیا کا ہے اگر کوئی اسے بالکل چھوڑ دے تو وہ بھی دین کے پانے سے محروم رہے گا اور اگر کوئی بالکل ہی دنیا کا ہو رہے تو وہ بھی محروم رہے گا۔اسلام نے روح اور جسم دونوں کے لئے عبادت مقرر کی ہے۔نماز روح اور جسم دونوں کیلئے عبادت ہے۔انسانی جسم کیا ہے ؟ یہ دنیا کا نمونہ ہے اسے عالم صغیر کہتے ہیں کیونکہ اس کی بناوٹ ان ساری قوتوں پر حاوی ہے جن سے عالم بنا ہے۔اس لئے اللہ تعالٰی نے عبادت میں جسم کو بھی شامل کیا ہے۔اگر نماز بغیر جسم کے نہیں ہو سکتی تو مذہب بغیر دنیوی معاملات کے کیسے قائم ہو سکتا ہے۔اگر دنیا کے بغیر مذہب قائم کیا جا سکے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ دل میں ہی اللہ اللہ کر لینا فرض نماز سے سبکدوش کر دیتا ہے اور ظاہر انماز کی کوئی ضرورت نہیں مگر یہ صحیح نہیں ہے۔پس دنیا کا ایک حد تک خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ اس کا اثر دین پر بھی پڑتا ہے کیونکہ جسم اور روح کی طرح دونوں کا آپس میں نہایت گہرا تعلق ہے۔اگر انسان کے سر میں شدید درد ہو تو نماز میں بھی پوری توجہ نہیں ہو سکتی اور شدید تکلیف کے وقت رقت بھی پیدا نہیں ہوتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ نماز میں دعا کرتے وقت جسم پر رونے کی حالت طاری کر لو روح پر خود رقت طاری ہو جائے گی۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔یہی حالت دنیا کی ہے اگر دنیا کا امن برباد ہو جائے، دنیا میں طوفان برپا ہوں، لوگوں میں بے چینی اور پریشانی پھیلی ہوئی ہو تو دین کی اشاعت کے رستے بھی ساتھ ہی بند ہو جائیں گے۔گویا دنیا کی اچھی حالت دین کی اچھی حالت کے لئے پیش خیمہ ہے اس لئے مومن کا اہم کام دنیا کی اصلاح ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔لا تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ بَعْدَ اِ مُلَاحِهَا۔(الاعراف (۵۷) انبیاء کا نام مصلح ہوتا ہے کیونکہ وہ دنیا سے فساد و شر کو دور کرتے ہیں۔انبیاء کی بعثت اسی وقت ہوتی ہے جب دنیا میں فساد یا تو ظاہر ہو چکا ہو یا ہونے والا ہو اور وہ اصلاح کے لئے ہیں مبعوث کئے جاتے ہیں۔غرض دنیاوی معاملات سے کلی انقطاع نا ممکن ہے جب کہ بنیاد اسلام کے