خطبات محمود (جلد 11) — Page 404
خطبات محمود سال ۶۱۹۲۸ - كَانَ عَلَى بَيْنَةٍ مِنْ رَبِّهِ كَمَنْ ذُيّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِم ( محمد ۱۵) یعنی کیا وہ جسے خدا کی طرف سے دلیلیں ملیں وہ اور جو ماں باپ کی مانی ہوئی باتوں کو بغیر دلیل مان رہا ہو برابر ہو سکتے ہیں ہرگز نہیں۔یہ مومن کی شان بیان فرمائی کہ وہ جو کچھ مانتا ہے اس کے دلائل جانتا ہے۔پس کوئی شخص خواه اسلام کے متعلق کتنا جوش ظاہر کرے اپنے آپ کو کتنا اسلام کا شیدائی بنائے اگر وہ اسلام کی صداقت کے دلائل نہیں جانتا تو اس کے ایمان کی کچھ حقیقت نہیں ہے۔اس سے پوچھا جائے گا کہ تم کس وجہ سے ایمان لائے تھے تمہارے پاس اسلام کے بچے ہونے کا کیا ثبوت تھا۔اگر کچھ نہ ہو گا تو خدا تعالیٰ کی خدائی پر ایمان لانا اور رسول کریم ﷺ کی رسالت کا قائل ہونا کافی نہ ہو گا۔تو قرآن کریم جو کچھ بیان کرتا ہے اس کے دلائل بھی رکھتا ہے اور ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اس کا مطالعہ کرنے۔میں نے کئی آدمیوں کو دیکھا ہے جب ان سے پوچھا گیا کہ رسول کریم کی صداقت کے تمہارے پاس کیا دلائل ہیں۔تو وہ کہتے ہیں دلیل تو ہمارے پاس کوئی نہیں لیکن اگر رسول کریم ﷺ کے خلاف کوئی بات کے تو اس سے لڑنے جھگڑنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔مجھے یاد ہے جب میں حج کے لئے گیا تو مظفر نگر کے رہنے والے ایک بوڑھے آدمی عبد الوہاب بھی حج کے لئے جا رہے تھے شاید وہ وہاں ہی فوت ہو گئے۔میرے نانا صاحب مرحوم بھی ساتھ تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ دوسرے لوگ اس شخص سے ہنسی اور تمسخر کرتے ہیں تو ان کو اپنے ساتھ رکھ لیا۔کچھ دن پاس رہنے کے بعد میں نے دیکھا کہ انہیں مذہب کا کچھ پتہ نہیں۔ان دنوں مدینہ میں وبا پھیلی ہوئی تھی وہ مدینہ جانا چاہتے تھے۔میں نے انہیں کہا کہ ایسے موقع پر آپ نہ جائیں کہنے لگے میں ضرور جاؤں گا خواہ کچھ ہو۔میں نے کہا آپ کے جانے کی کیا غرض ہے اگر ثواب کی نیت سے جاتے ہو تو شریعت کا حکم ہے کہ جہاں وبا پھیلی ہو وہاں نہ جاؤ اس پر آپ کو عمل کرنا چاہئے۔کہنے لگے بات یہ ہے میرے بیٹوں نے مجھے کہا تھا وہاں ضرور جانا اس لئے جانا چاہتا ہوں۔میں نے کہا آپ کو پتہ ہے وہاں کیا ہے کہنے لگے مجھے یہ تو پتہ نہیں اس پر مجھے خیال آیا جب یہ اس سے خود نا واقف ہیں تو ان کی مذہبی حالت کا پتہ لگاؤں۔میں نے پوچھا آپ کا مذہب کیا ہے اس سے میری مراد یہ تھی کہ آپ کسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔کہنے لگے مجھے پتہ نہیں گھر جا کر ملاں سے پوچھ کر آپ کو بتا دوں گا۔میں نے کہا آپ حج کے لئے جارہے ہیں مگر اتنا بھی نہیں جانتے کہ آپ کا مذہب کیا ہے۔کہنے لگے اچھا پھر مجھے سوچ لینے