خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 382

خطبات ۳۸۲ سال ۱۹۲۸ء بھی جنات میں سے ہے۔کیونکہ چھوٹا ہوتا ہے اور اڑتے ہوئے جب دور چلا جائے تو نظر نہیں آتا) جن کے اثرات غیر معلوم طور پر ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ماں باپ جھوٹ بولتے ہیں آگے ان کی اولاد جھوٹ بولنے لگ جاتی ہے۔لوگ اپنی اولاد کو جھوٹ سکھاتے نہیں بلکہ جھوٹ بولنے سے روکتے ہیں مگر باوجود اس کے بچے جھوٹ بولنا سیکھ لیتے ہیں کیونکہ انسانوں کو ان کے اعمال چاروں طرف سے گھیرے ہوتے ہیں اور ان کے اثرات ان کے بچوں پر بھی پڑتے ہیں۔جو ماں باپ چوری کرتے ہیں ان کے بچوں میں بھی چوری کرنے کی عادت پائی جاتی ہے وہ ماں باپ جو گالی گلوچ کرتے ہیں ان کے بچے بھی گالیاں دینے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ایک گندی گالیاں دینے والا کہتا ہے میں نے فلاں کی خوب خبر لی حالا نکہ جسے گالیاں دیتا ہے اسے پتہ بھی نہیں ہو تا کہ کیا کہا گیا اور اگر سامنے ہوتا ہے تو بھی اس کا کیا بگڑ جاتا ہے۔مگر گالیاں دینے والا اپنے آپ کو ذبح کر لیتا ہے کیونکہ اس کی اولاد میں بد زبانی کی عادت پیدا ہو جاتی ہے۔اسی طرح وہ شخص جو کسی کی غیبت کر رہا ہوتا ہے سمجھتا ہے اسے نقصان پہنچا رہا ہے مگر اسے نقصان نہیں پہنچا تا بلکہ اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔اس کے رشتہ دار جو اس کے پاس بیٹھے غیبت سنتے ہیں وہ اس کی غیبت کرنے لگ جاتے ہیں۔بچے جب دیکھتے ہیں کہ ان کے باپ دادا یا بھائی نے کسی کی غیبت کی تو وہ سمجھتے ہیں یہ اچھی بات ہی ہو گی تبھی کی گئی ہے اور پھر وہ اسی کی غیبت شروع کر دیتے ہیں۔پس انسان کے اعمال مرنے کے بعد جو بدلہ دیں گے وہ تو دیں گے ہی اس دنیا میں بھی دے رہے ہیں۔اور ان کی بعض چوٹیں ایسی سخت پڑتی ہیں کہ خود انسان ان کو برداشت نہیں کر سکتا۔پھر اس کے بچوں، رشتہ داروں اور بیوی پر ان کے اثرات پڑتے ہیں۔ادھر تو یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی جھوٹ بولتا ہے تو اس کی اولاد جھوٹ بولنے لگ جاتی ہے۔اگر کوئی گالیاں دیتا ہے تو اس کی اولاد گالیاں دینے کی عادی ہو جاتی ہے۔اگر کوئی فتنہ پردازی کرتا ہے تو اس کی اولاد فتنہ انگیز ہو جاتی ہے اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کا اس سے ایسا ہی معاملہ ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص لوگوں پر غضب کرتا ہے تو اللہ تعالٰی بھی اس سے ایسا ہی معاملہ کرتا ہے۔انجیل میں حضرت مسیح ناصری کا قول آتا ہے حدیثوں میں بھی اس کا ذکر ہے۔مگر میں انجیل کا قول اس لئے نقل کرتا ہوں کہ ایک تو وہ پہلے کی ہے اور دوسرے یہ کہ وہ ایک ایسی قوم سے تعلق رکھتی ہے جو مسلمان نہیں ہے اور میرا یہ وعظ مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ دوسروں کے لئے بھی ہے۔عیسائی کوئی اسلامی کلام نہ مانیں گے مگر انجیل کا قول ان پر بھی