خطبات محمود (جلد 11) — Page 377
خطبات محمود دین کے لئے زندگی وقف کرنے کی تحریک سال ۱۹۲۸ء اس کے بعد میں ایک خاص اعلان کرنا چاہتا ہوں۔کچھ عرصہ ہوا میں نے تحریک کی تھی کہ نوجوان خدمت دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔اس پر بہت سے نوجوانوں نے کیں جن میں کئی ایک عربی کی تعلیم حاصل کئے ہوئے تھے اور کئی انگریزی کی۔اس وقت جتنے آدمیوں کی ضرورت تھی وہ پوری ہو گئی لیکن اب پھر بعض کاموں کے لئے ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے۔مقامی حالات کے لحاظ سے یہ قدرتی بات ہے کہ محدود جماعت کے کارکنوں کو جو گزارے دیئے جائیں وہ محدود ہوں اس لئے یہاں کے کارکنوں کے گزارے محدود ہوتے ہیں۔لیکن باوجود اس کے زندگی وقف کنندوں اور دوسروں میں جو فرق ہے وہ کم از کم وصیت کرنے والوں اور وصیت نہ کرنے والوں کے برابر رہنا چاہئے اس وجہ سے میں نے یہ قرار دیا ہے کہ وقف کننده کو اس عہدہ والے سے ۲۵ فیصدی کم گزارہ دیا جائے مگر اس سے چندہ نہ لیا جائے۔اس طرح در اصل فرق ۲۵ فیصدی نہیں رہتا بلکہ ۱۹ یا ۱۸ فیصدی پر بات آجاتی ہے۔یہ دوسروں کی نسبت زیادہ قربانی کی صورت ہے اور جس حد تک وقف کنندگان کے گزارہ کی کوشش کی جاسکتی تھی کی گئی ہے اور خدا جانتا ہے اور کیا کچھ کیا جا سکے گا۔جو قوم عزت اور شوکت حاصل کر لیتی ہے وہ اپنے کارکنوں کو بھی ترقی دینا ضروری سمجھتی ہے اور جو قوم خود ذلیل ہو جاتی ہے اس کے کارکن بھی ذلیل سمجھے جاتے ہیں۔دیکھو مولویوں کو آج کوئی پوچھتا نہیں لیکن پادریوں کی ہر جگہ عزت کی جاتی ہے۔وجہ یہ کہ پادریوں کی قوم کو عزت حاصل ہے اور مولویوں کی قوم ذلیل سمجھی جاتی ہے۔تو ہو سکتا ہے آج ہمارے جن کارکنوں کو کوئی پوچھتا نہیں وہی جماعت کی ترقی کے ساتھ اس درجہ کو پہنچ جائیں کہ ہر جگہ ان کی عزت کی جائے۔پہلے میں نے مدرسہ احمدیہ میں اس بات کا ذکر کیا ہے اور بعض نوجوانوں نے مجھے درخواستیں پہنچائی ہیں اور بعض نے دفتر میں دی ہیں۔اب میں باقی جماعت کو اس خطبہ کے ذریعہ مطلع کرتا ہوں خصوصاً کالجوں کے طلباء کو اور ان طلباء کو جو اپنی تعلیم ختم کر چکے یا کرنے والے ہیں۔اس وقت غیر مذاہب میں تبلیغ کے لئے مبلغ بھیجنے کی ضرورت ہے اس لئے ایسے نوجوان ہوں جو دین کے متعلق واقفیت رکھتے ہوں یا واقفیت پیدا کرنے کی خواہش رکھتے ہوں۔اس وقت چند آدمیوں کی ضرورت ہے جن کو لے کر کام پر لگا دیا جائے گا یا تیاری کرائی جائے