خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 352

خطبات محمود ۳۵۲ سال ۱۹۳۸ء مطلب ہے کہ اس کو وہ قبولیت بخشی جائے گی اور اس کثرت سے اس کا دین پھیل جائے گا کہ دوسرے مذاہب ایسے کمزور ہو جائیں گے کہ استثناء کے طور پر ان کا نام لینے کی بھی ضرورت نہ رہے گی کیونکہ یہ قاعدہ ہے کہ جب قلت بہت ہی قلیل ہو تو پھر استثناء کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔مثلاً کوئی کہے کہ سارا ہندوستان فلاں بات پر متفق ہے تو اگر کوئی قلیل جماعت یا ہماری جماعت ہی اس بات کے خلاف ہو اور باقی ہندو مسلمان سکھ وغیرہ متفق ہوں تو یہی کہا جائے گا ہندوستان متفق ہے اور ہماری پرواہ نہیں کریں گے۔لیکن اگر مسلمان خلاف ہوں تو گو باقی لوگوں کے مقابلہ میں وہ قلیل ہیں مگر بہت قلیل نہیں اس لئے کوئی یہ نہ کہے گا کہ سارا ہندوستان متفق ہے۔پس حضرت مسیح موعود کے اس الہام کا یہی مطلب ہے کہ دنیا پر آپ کی صداقت اس قدر ظاہر ہو جائے گی کہ جو منکر ہوں گے ان کا نام استثناء کے طور پر بھی لینے کی ضرورت نہ ہوگی۔یہ ایک دعوئی ہے جو ضرور پورا ہو گا مگر ہماری موجودہ حالت وہی ہے جو آج سے تیرہ سو سال قبل مسلمانوں کی حالت اس فرانسیسی مصنف کو یا اس جیسے لوگوں کو نظر آتی تھی جس نے دیکھا تھا کہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے چند لوگ ایک کچے مکان میں بیٹھے دنیا کے فتح کرنے کی سر گوشیاں کر رہے تھے۔آج بھی وہی سرگوشیاں ہو رہی ہیں مگر آج ہمیں کچا مکان بھی نصیب نہیں بلکہ ہم بڑ کے درخت کے نیچے یہ مشورے کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں کہ دنیا کو کس طرح فتح کیا جائے۔مگر جس طرح ان سرگوشیوں کا خدا تعالٰی نے عظیم الشان نتیجہ ظاہر کیا اسی طرح اب بھی کرے گا اور جس طرح اس وقت لوگ اس نتیجہ کا انکار کرتے تھے اسی طرح اب بھی کرتے ہیں مگر یاد رکھیں آج جو سرگوشیاں ہو رہی ہیں ان کا ایسا نتیجہ نکلے گا کہ ساری دنیا پر احمدیت کا جھنڈا لہرائے گا۔لیکن آج کے منظر کی تصویر اگر لے لی جائے اور اسے کوئی آج سے چھ سات سو سال بعد شائع کرے تو اس وقت کے لوگ انکار کریں گے کہ یہ ہمارے بڑوں کی حالت کی تصویر ہے۔وہ کہیں گے ہم نہیں مان سکتے کہ وہ ایسے کمزور تھے۔اس پر یقین کرنے کے لئے ایک تیز قوت داہمہ کی ضرورت ہوگی۔مگر میں جماعت سے کہتا ہوں ان وعدوں کا مستحق بنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس کے لئے دعاؤں پر بہت زور دینا چاہئے ، معاملات میں صفائی چاہئے، ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا چاہئے ، اپنے نفسوں کو قابو میں رکھنا چاہئے آپس میں محبت اور اتحاد کا سلوک کرنا چاہئے مگر میں دیکھتا ہوں ابھی بہت ہیں جن کے نفس