خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 335

خطبات محمود ۳۳۵ سال ۶۱۹۲۸ رہیں۔جب امیروں کو اس بات کا علم ہوا کہ رسول کریم ﷺ نے تحمید اور تسبیح کرنے کا ارشاد فرمایا ہے تو انہوں نے بھی تسبیح، تحمید شروع کر دی۔اس پر غرباء نے پھر رسول اللہ کی خدمت میں عرض کی کہ امیر بھی آپ کے ارشاد پر عمل کرنے لگ گئے ہیں اب ہم کیا کریں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں خدا کی نیکی سے کیونکر کسی کو روک سکتا ہوں اگر ان کے مال ان کی دینی ترقی کا موجب ہو رہے ہیں تو میں ان کو کیسے اس سے منع کر دوں۔اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ذکر الہی کو صدقہ کا قائم مقام ٹھرایا گیا ہے۔پس جو غریب لوگ صدقہ نہیں دے سکتے وہ تسبیح و تحمید و تکبیر سے ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔اور اگر کوئی امیر باوجود مالی خیرات کے یہ بھی کرے تو رسول کریم ﷺ نے اس سے روکا نہیں یہ اس کے لئے مزید ترقی کا موجب ہو گا۔مگر آج کل کے امیروں میں ایسے لوگ بہت کم ہیں۔پس اپنے اندر چستی پیدا کرنے کا یہ بھی ایک ذریعہ ہے کہ امراء صدقہ کریں اور جن کو صدقہ کرنے کی توفیق نہیں وہ تسبیح و تحمید کریں۔اس کے لئے ضروری نہیں کہ رسم کے طور پر ایک خاص شکل بنائے ہوئے مسجد میں انسان بیٹھا رہے بلکہ وہ خواہ کہیں ہو تسبیح کر سکتا ہے۔مجلس میں بیٹھا ہوا بھی تسبیح و تحمید و تکبیر کر سکتا ہے۔اور اس طرح ہر انسان کے لئے اس حکم کے پورا کرنے میں سہولت ہے اور کوئی شخص خواہ کتنا ہی غریب کیوں نہ ہو اس طرح صدقہ دے سکتا ہے۔اور جو شخص سارا سال ایسا کرے وہ گویا سارا سال صدقہ دیتا رہتا ہے۔موجودہ زمانہ میں دعا پر جس قدر ظلم ہو رہا ہے میں سمجھتا ہوں اور کسی زمانہ میں نہیں ہوا ہو گا۔اس زمانہ میں دعا کی حیثیت ایک بے جان لاشہ کی سی ہو گئی ہے۔کچھ لوگ تو ایسے ہیں جنہوں نے اسے بدترین اور لغو شئے سمجھ رکھا ہے۔وہ کہتے ہیں خدا تعالی کوئی بچہ نہیں کہ ہم اس سے مانگیں گے تو وہ ہمیں دے دے گا اگر محنت کرو گے تب ملے گا۔دوسرے وہ لوگ ہیں جو دعا کو چھو منتر سمجھے ہوئے ہیں۔ان کی مثال ایسی ہے جیسے ہمارے ملک میں بچے آنکھ مچولی کھیلتے ہیں۔ایک بچہ آنکھیں بند کر لیتا ہے اور باقی بھاگ جاتے ہیں۔پھر وہ ان کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے اس دوران میں اگر کوئی بچہ مقررہ مقام پر اگر تھو" کر دے تو وہ بچ جاتا ہے اور پھر اس کو پکڑ کر اس کی آنکھیں نہیں بند کی جاسکتیں۔تو بعض لوگوں نے دعا کو ایک ایسی ہی کھیل سمجھ رکھا ہے کہ جب تھو کیا سب کچھ حاصل ہو جائے گا۔پھر اگر ان کی مراد پوری نہ ہو۔مثلاً اگر وہ بیٹے کے لئے دعا کر رہے ہوں اور وہ نہ ملے۔یا مقدمہ میں ان کی فتح نہ ہو تو خدا سے ناراض ہو جاتے