خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 325

خطبات محمود ۳۲۵ سال ۱۹۲۸ء جمع کر لیتے ہیں۔انہوں نے بھی اپنے رشتہ داروں اور دوسروں کو جمع کیا، کھانے تیار کئے گئے اور ضیافت کی خوب تیاریاں کی گئیں۔بچہ میں چونکہ روزہ رکھنے کی طاقت نہ تھی ایک تو اس کی عمر چھوٹی تھی دوسرے صحت بھی اچھی نہ تھی نتیجہ یہ ہوا کہ دن ڈھلتے تک بچہ بھوک اور پیاس بے تاب ہو گیا کچھ دیر تو گھر والے اسے دلا سا دیتے رہے مگر جب وہ تکلیف سے مجبور ہو گیا۔تو پاگلوں کی طرح دوڑ کر پانی کے گھڑے کی طرف جانے کی کوشش کرنے لگا۔مگر ماں باپ ہر بار اسے روک دیتے اس لئے کہ اگر اس نے روزہ توڑ دیا تو رشتہ دار وغیرہ انکاری کی خوشی منانے کے لئے جمع ہیں ان کی خوشی میں فرق آئے گا اور پھر اس لئے بھی کہ جہلاء کا خیال ہے کہ روزہ رکھ کر توڑنا منع ہے خواہ جان ہی چلی جائے۔غرض بچہ کو پانی پینے سے وہ روکتے رہے۔آخر گرتا پڑتا ایک دفعہ گھڑے کے پاس پہنچ ہی گیا مگر اس وقت اس کی جان نکل چکی تھی۔اس طرح وہی رشتہ دار اور مہمان جو خوشی منانے کے لئے جمع ہوئے تھے اس کے ماتم میں شریک ہوئے۔بے شک ایسے واقعات شاذو نادر ہوتے ہیں مگر یہ انتہائی نتیجہ ہے اور ضروری نہیں کہ ہر بار انتہائی نتیجہ ہی نکلے۔اب یہاں تک ثابت ہو چکا ہے کہ ساٹھ ساٹھ دن تک فاقہ کیا گیا ہے۔جیل خانوں وغیرہ میں بعض مجرم اس لئے کھانا پینا چھوڑ دیتے ہیں کہ ان سے اچھا سلوک نہیں کیا جاتا۔اس طرح فاقہ کرنے والے ساٹھ ساٹھ دن تک زندہ رہے ہیں۔بے شک ایسے لوگوں کو آخری ایام میں مالش وغیرہ کی جاتی رہی ہے تاکہ اس طرح ان کے جسم میں غذا پہنچے مگر اس طرح اور معدہ میں خوراک پہنچانے میں بڑا فرق ہے۔پھر ذیا بیطس کے بیماروں کو چالیس چالیس دن کا فاقہ کرایا جاتا ہے۔صرف جو کے پانی کا گھونٹ دیا جاتا ہے۔اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ چھ سات دن تک تو فاقہ کرنے سے انسان مر نہیں سکتا مگر کوئی پسند نہ کرے گا کہ اس طرح فاقہ کر کے اپنی صحت خراب کرلے۔کام وہی اچھا ہوتا ہے جس کا نتیجہ اچھا ہو میں نے بتایا تھا کہ مسلمانوں میں ایک غلطی پیدا ہو گئی تھی اور اس قسم کی غلطیاں اسی وقت پیدا ہوتی ہیں جب کسی قوم میں تنزل شروع ہو - غلطی یہ پیدا ہو گئی تھی کہ بلوغت کے معنے غلط سمجھے گئے تھے۔میں نے اپنے خطبہ میں اس بات پر زور دیا تھا کہ ہر بات کے لئے علیحدہ بلوغت ہوتی ہے۔لوگوں نے بلوغت یہ سمجھ رکھی ہے کہ وہ مادہ جس سے ولادت ہوتی ہے جب پیدا ہو جائے تو بچہ بالغ ہو جاتا ہے۔یہ مادہ ہمارے ملک کے لحاظ سے بارہ تیرہ چودہ سال کی عمر میں پیدا ہو جاتا ہے۔بعض اور ممالک ہیں جہاں دس گیارہ سال