خطبات محمود (جلد 11) — Page 296
خطبات محمود ۲۹۶ سال ۱۹۲۸ء قابل آدمی اور ایسے آدمی جو دینی کام کرنے کے لئے وقت دے سکتے ہیں موجود ہیں۔یو پی میں دو چار جگہوں کے علاوہ ایسے آدمی موجود نہیں ہیں جو اس طرح کام کر سکیں مگر اس صوبہ کی زبان چونکہ اردو ہے وہاں بھی آسانی سے کام کیا جا سکتا ہے۔صوبہ سرحد میں خدا کے فضل سے ہماری نہایت زبردست جماعت ہے۔گو اس علاقہ کے باشندوں کی نسبت سے کم ہے مگر پنجابی جو اس علاقہ میں رہتے ہیں ان کو ملا کر اچھی تعداد ہے۔وہاں کے باشندے ایسے ہیں جو خاص خوبی رکھتے ہیں۔اور ایک بات میں نے ان میں ایسی دیکھی ہے جو اور جگہوں میں بہت کم نظر آئی ہے۔کئی جگہ دیکھا گیا ہے کہ اگر وہاں آپس میں اختلاف ہو جائے تو ایک حصہ جماعت کا کام چھوڑ بیٹھتا ہے لیکن اگر سرحدی صوبہ میں کسی جگہ ایسا اختلاف پیدا ہو تو کوئی حصہ کام نہیں چھوڑتا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ جوش سے دونوں کام کرتے اور ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔میرے نقطہ نگاہ سے اور میرا نقطہ نگاہ اس بارے میں زیادہ محفوظ ہے کیونکہ میں ایک جماعت کا امام ہونے کے لحاظ سے ان باتوں کو خوب سمجھ سکتا ہوں جو جماعت کی ترقی کے لئے ضروری ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ صوبہ سرحد کی جماعتوں میں یہ بہت بڑی خوبی ہے۔پس کو صوبہ سرحد میں جماعت کم ہے مگر ایسے قابل اور سرگرم کارکن موجود ہیں جن کے لئے جلسوں کا انتظام کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔اسی طرح صوبہ بنگال ہے۔تعداد کے لحاظ سے پنجاب کے بعد بنگال کی جماعت ہی ہے اور کام کرنے کے لحاظ سے بھی وہاں احمدی بہت جوش رکھتے ہیں انہوں نے اپنے علاقہ میں آرگنائیزیشن خوب کی ہوئی ہے۔علاقہ سندھ میں بھی انتظام کیا جا سکتا ہے۔گو اس علاقہ کی زبان مختلف ہے مگر وہاں چونکہ کئی سال سے ہماری طرف سے تبلیغ ہو رہی ہے اس وجہ سے وہاں انتظام کرنا بھی آسان ہے۔مگران علاقوں کو چھوڑ کر سارا علاقہ ہمیئی ، مدراس، برار، میسور بڑودہ وغیرہ ریاستیں ان علاقوں میں ہماری جماعتیں نہایت قلیل تعداد میں ہیں اور جہاں جماعتیں قلیل تعداد میں ہیں۔وہاں ایک اور مشکل یہ بھی ہے کہ وہاں کی زبانیں ہماری زبان سے مختلف ہیں یو - پی اور بہار میں جماعتیں کم ہونے کے باوجود انتظام آسان ہے کیونکہ ان علاقوں میں اردو زبان بولی جاتی ہے۔مگر جہاں تامل، تلنگو ، مرہٹی، مالا باری زبانیں بولی جاتی ہیں وہاں انتظام کرنا زیادہ مشکل ہے۔مگر جلے تبھی مفید ہو سکتے ہیں جب ہزار کی تعداد میں نہیں بلکہ کم از کم ہزار بڑے بڑے شہروں اور قصبوں