خطبات محمود (جلد 11) — Page 290
خطبات محمود ۲۹۰ سال ۱۹۲۸ء ، آتی ہے پھر آہستہ آہستہ بدی کی عادت پڑ جاتی ہے اس کے بعد بدی نفس سے پیدا ہونے لگ جاتی ہے۔ان تمام باتوں کا علاج اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے ہی ہو سکتا ہے۔اللہ تعالٰی سے جو لوگ تعلق پیدا کر لیتے ہیں انہیں یہ ساری باتیں نظر آنے لگ جاتی ہیں۔وہ سمجھتے ہیں الحمد للہ بے عیب ذات خدا تعالی ہی کی ہے جس طرح کسی اور میں عیب ہیں اسی طرح ہم میں بھی ہیں پھر کسی کی عیب چینی کیوں کریں۔حضرت مسیح نے کیا سچ فرمایا ہے دوسرے کی آنکھ کا تنکا نظر آجاتا ہے مگر اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔یہی حال عیب چین کا ہوتا ہے اسے اپنا کوئی عیب نظر نہیں آتا مگر دوسروں کے عیب نظر آتے ہیں۔اور نہ صرف عیب نظر آتے بلکہ خواہ مخواہ دوسروں کی طرف عیب منسوب کرنے لگ جاتا ہے اور ہر بات میں عیب نکالتا ہے۔کسی کو کچھ کھاتے دیکھا تو کہہ دیا اس نے چوری کی ہوگی۔اگر کسی نے غلطی سے کوئی بات کہہ دی تو کہہ دیا اس نے جھوٹ بولا ہے غرض اس میں عیب چینی کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔اس کے متعلق ہدایت یہ ہے کہ انسان سمجھے بے عیب خدا ہی ہے انسانوں میں کمزوریاں ہوتی ہیں مجھ میں بھی ہیں اس لئے مجھے کسی اور کی عیب چینی نہیں کرنی چاہئے۔پھر شرک اس طرح پیدا ہوتا ہے کہ انسان دوسروں پر بھروسہ رکھتا ہے اور ان سے مدد کا طالب ہوتا ہے۔اس کے متعلق ہدایت یہ ہے کہ وہ سمجھے خدا ہی مدد دے سکتا ہے اس کے سوا اور کوئی مدد نہیں دے سکتا۔نَسْتَعِینہ اس سے ہی مدد مانگتے ہیں۔اسی طرح خدا تعالی ہی کی ہدایت سے انسان بخشش پا سکتا ہے ورنہ ایسے ایسے مخفی گڑھے ہوتے ہیں کہ انسان ان میں گر جائے تو کبھی نکل نہ سکے اس لئے فرمایا نَستَغْفِرُۂ خداہی سے بخشش مانگتے ہیں۔پھر اللہ ہی کے فضل سے ایمان نصیب ہو سکتا ہے۔اگر خدا کی طرف سے وحی نہ آئے تو کیا انسان ہدایت پا سکتا ہے۔اس کے متعلق فرمایا۔نُؤْمِنُ بِہ ہم خدا پر ایمان لاتے ہیں۔پھر تو کل بھی خدا ہی کی طرف حاصل ہوتا ہے۔بندہ تو اتنا کمزور ہے کہ وہ اپنا سہارا آپ نہیں لے سکتا۔خدا ہی اسے سہارا دیتا ہے تب وہ قائم رہ سکتا ہے اس لئے فرمایا وَنَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ - ہم خدا تعالٰی پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔جن لوگوں کو اتنی باتیں حاصل ہو جاتی ہیں پھر انہیں کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔اس کا یہ مطلب میں کہ خدا تعالی انہیں زبردستی ہدایت دیتا ہے بلکہ یہ ہے کہ جن کو یہ پانچوں باتیں یعنی جمد