خطبات محمود (جلد 11) — Page 251
خطبات محمود ۲۵۱ سال 1927ء کہا کرتے ہیں آپ بے نظیر انسان تھے۔کوئی اور شخص ہر گز ایسا نہیں کر سکتا تھا۔مجھے بھی ملے ہیں کہتے ہیں کوئی شخص ایسا نہیں کر سکتا کہ ذلیل کرنے والے مخالف کی ذلت کو بھی گوارا نہ کرے۔کہنے کو تو یہ ایک فقرہ ہے مگر کریکٹر پر لکھنے والوں کے لئے ایک نمونہ ہے۔وہ وکیل صاحب تمہیں سال گزرنے کے بعد آج بھی اس سے متاثر ہیں۔سو یہ اگر چہ ایک چھوٹی سی بات تھی مگر اثر کے لحاظ سے اس نے عظیم الشان نتائج پیدا کئے۔اسی طرح بعض پیش گوئیاں اور نشانات بظا ہر کو چھوٹے ہوتے ہیں لیکن ان کی کیفیت پر غور کرنے والوں کے لئے ان میں کئی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن سے ایمان میں بہت اضافہ ہوتا ہے۔مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے جس کا علم مجھے کل ہی ہوا ہے۔گو وہ فرد اور اس کی حالت کے متعلق ہے مگر اس میں کئی پیشگوئیاں ہیں۔کئی ایک دوستوں نے بتایا کہ ان کو پہلے ہی معلوم تھا۔مگر مجھے کل ہی معلوم ہوا ہے۔کل تائی صاحبہ کی وفات کے وقت شیخ یعقوب علی صاحب نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود کا ایک پرانا الہام ہے۔"تائی آئی اس کے متعلق پرانے احمدی بتاتے ہیں کہ اس وقت اس کے معنی سمجھ میں نہیں آتے تھے۔کوئی کچھ کہتا تھا اور کوئی کچھ۔لیکن ایک ہی سیدھے سادھے معنی اس فقرہ کے یہ ہو سکتے ہیں کہ کوئی ایسی عورت جس کا رشتہ تائی کا ہو وہ آجائے۔آنے کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں پاس آنا یا جماعت میں آنا۔خالی آجانا کوئی پیشگوئی نہیں ہو سکتی۔کیونکہ رشتہ دار آیا ہی کرتے ہیں۔ہمارے ہاں تمام کے تمام بڑے لوگ بھی حضرت صاحب کی بھا وجہ کو تائی کے لقب سے پکارتے تھے گویا ان کا نام ہی تائی تھا۔سلسلہ کی کتابیں پڑھنے والے جانتے ہیں کہ محمدی بیگم کی پیشگوئی کے زمانہ میں وہ اشد ترین مخالف تھیں۔چونکہ وہ خاندان میں سب سے بڑی تھیں۔اور پیشگوئی بھی ان کی بہن کی بیٹی کے متعلق تھی۔اس لئے خاندان کی لیڈر کے لحاظ سے اس وقت وہ اس رشتہ میں روک ڈالنا جس کو وہ خاندانی رسوائی کے مترادف سمجھتی تھیں اپنا فرض سمجھتی تھیں۔اور ان کے نزدیک ان کا اہم فرض تھا کہ وہ مقابلہ کریں۔عورتوں کی فطرت کے لحاظ سے بڑی عورت کے لئے عزت اور خاندانی و قار تمام دینی امور بلکہ تمام سیاسیات اور دیگر حالات سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔اس وقت حضرت مسیح موعود کا مسیح ہونے کا دعوئی ان کے نزدیک اس قدر اہم نہیں تھا جس قدر خاندانی عزت تھی۔اور یوں بھی چونکہ بڑوں کے لئے چھوٹوں کی اطاعت مشکل ہوتی ہے۔اور مسیح موعود تائی صاحبہ سے چھوٹے تھے اور انہوں نے جائدادو غیرہ میں حصہ بھی نہیں لیا تھا۔اس لئے آپ کا کھانا وغیرہ ان کے ہی گھر سے جاتا تھا۔اس لحاظ سے بھی وہ اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود کی محسنہ سمجھتی تھیں عورتوں میں