خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 224

خطبات محمود ۲۲۴ سال 1927ء میں جب کہ میں لاہور گیا تھا۔سنایا کہ باوجود اس کے کہ مجھے خرچ کی تنگی تھی۔میں اس لئے ساتھ چلا ہوں۔کہ مجھے خواب میں بتایا گیا ہے کہ گویا تمام نبوتوں کی برکات آپ کے ساتھ جمع ہیں۔(مفہوم اس کے قریب قریب تھا، میں نے خلافت کے پہلے تین ماہ میں اس قسم کی خوا ہیں جمع کرائی تھیں۔جو پانچ سو سے زیادہ تھیں۔اور پھر ہر سال ایسے لوگوں میں اضافہ ہو تا رہتا ہے۔اب بھی ایک صاحب نے جو پکے غیر مبالغ تھے اچھے تعلیم یافتہ اور معزز شخص ہیں۔رویا کی بنا پر بیعت کی۔تھوڑا عرصہ ہوا وہ مجھ سے سخت بحث کرتے رہے اور کچھ ناروا الفاظ بھی انہوں نے استعمال کئے۔گو ان کے دل میں سعادت تھی۔اور انہوں نے بعد میں معافی مانگ لی تھی۔خدا تعالٰی نے ان کی راہنمائی کی اور انہوں نے بیعت کرلی۔اسی طرح اور کئی لوگ بیعت کرتے رہتے ہیں جنہیں رویا اور کشوف ہوئے مگر یہ تمام نشان ایک ایسے انسان کے لئے ہیں جس کی ضد اور عداوت سے عقل نہ ماری گئی ہو۔وہ دیکھ سکتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیا گیا ہوں۔اب جو میرا مقابلہ کرے گا وہ خدا کا مقابلہ کرے گا۔افسوس ان لوگوں پر جو ان نشانات سے فائدہ نہ اٹھائیں۔ورنہ میرے ذریعہ خدا تعالٰی نے ایسے ایسے نشان دکھائے ہیں جو عقل کے دروازے کھولنے کے لئے کافی ہیں۔لیکن جو انسان آنکھیں بند کرلے وہ کچھ نہیں دیکھ سکتا نبی نشان پر نشان دکھاتا ہے مگر منکر یہی کہتے رہتے ہیں کہ کچھ نہیں دکھایا حضرت مسیح موعود نے نشان پر نشان دکھائے بعض لوگ آئے جنہوں نے آکر کہا۔ان کی تو پگڑی ٹیڑھی ہے۔یہ مسیح موعود کس طرح ہو سکتے ہیں۔آپ نے معجزہ پر معجزہ دکھایا۔مگر بعض ایسے لوگ آئے جنہوں نے کہا یہ تو قاف صحیح طور پر نہیں بول سکتے یہ کہاں مسیح موعود ہو سکتے ہیں۔آپ نے آیت پر آیت دکھائی۔مگر ایسے لوگ آئے جنہوں نے کہا انہوں نے بیوی کے لئے زیور بنوائے ہیں۔یہ بادام روغن استعمال کرتے ہیں انہیں ہم کس طرح مان سکتے ہیں۔اسی طرح اور بہت سے اعتراض آپ پر کئے گئے۔جن کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔درراه کیونکہ خدا تعالیٰ آپ کی نسبت فرماتا ہے۔وَلَا تُبقِی لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِكرَا اتذكره صفحه ۵۳۸) کہ جو گندے اور بد نام کرنے والے الزام تجھ پر لگائے جاتے ہیں ہم ان کا ذکر بھی باقی نہیں چھوڑیں گے۔پس جو اعتراض کئے جاتے رہے ہیں ان کے تفصیل سے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔نشانات سے مخالفین نے آنکھیں بند کرلیں اور ان نشانات کو بھی نہ دیکھا جو پہلے نبیوں نے آپ کے زمانہ کے متعلق بیان کئے تھے اور سمجھا کہ آپ کی تکذیب کرنے کے لئے انہیں بڑی پکی دلیل مل گئی ہے