خطبات محمود (جلد 11) — Page 188
خطبات محمود ۲۳ سال 1927ء بین الاقوامی تعلقات کی بہتری (فرموده ۵ / اگست ۱۹۲۷ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ہندو مسلمانوں کے درمیان پچھلے دنوں جو اختلاف پیدا ہوا ہے اس کے جائز و نا جائز ہونے کو نظر انداز کر کے اس بات کے متعلق کوئی بھی شبہ نہیں کیا جاسکتا کہ ملک کی بہبودی اور دنیا کے امن کے قیام کو مد نظر رکھتے ہوئے اس قسم کے فساد اور فتنے ضرور مضر ہوتے ہیں۔لیکن جس طرح لڑائی کو ہر شخص نا پسند کرتا ہے اور جس طرح جنگ ہمیشہ سے بری سمجھی گئی۔اسی طرح دنیا کے اعلیٰ سے اعلیٰ اخلاق کے لوگ جن کے اخلاق کے سامنے دنیا نے سر جھکا دیئے۔جنگ کی ضرورت کے قائل بھی رہے ہیں۔اور نہ صرف قائل رہے ہیں خود جنگوں میں حصہ لیتے رہے ہیں بلکہ انہوں نے جنگیں برپا کی ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت کے مطابق بعض چیزیں اچھی اور بعض بری ہوتی ہیں۔میرا اپنا خیال تو یہی ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ ہر چیز ہی موقع کے لحاظ سے اچھی اور بری ہو سکتی ہے لیکن اگر ہر چیز کے لئے یہ خیال نہ بھی کیا جائے تو بہت سی چیزوں کے متعلق تو یہ کہنا ضرور ٹھیک ہے۔پس تلوار کی لڑائی بھی اور بندوقوں کی جنگ بھی اور توپوں کی بوچھاڑ بھی بعض موقعوں پر اچھی اور بعض پر بری ہوتی ہے لیکن بعض جگہ انصاف کے قیام کے لئے تلوار کا اٹھانا ضروری ہوتا ہے۔بعض جگہ امن کے قیام کے لئے اک فتنہ پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور بظا ہر جو چیز اس وقت فتنہ معلوم ہوتی ہے در حقیقت دنیا کی بہتری اور بھلائی کا باعث ہوتی ہے۔اسی طرح موجودہ فتنہ جو ہندو مسلمانوں کے جھگڑوں کا پیدا ہوا ہے۔گو اس کے بواعث کیسے ہی خطر ناک اور اخلاق و دیانت سے کتنے ہی گرے ہوئے کیوں نہ ہوں آئندہ امن کے قیام میں بہت مدد دے سکتا ہے۔ہاں اس فتنہ کا لمبا ہوتے جانا بعض لحاظ سے ضرور ضرر رساں ہے پس جلد یا بدیر