خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 170

خطبات محمود 14۔سال 1927ء میں ہیں کہ رسول کریم اے پر اعتراض ہو سکتے ہیں۔بلکہ یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کو ہندوؤں کی طرف سے گالیاں دی گئیں اور آپ کی ہتک کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔لیکن ہندوؤں کے بزرگوں کے خلاف مسلمانوں نے کچھ نہیں لکھا اور نہ گالیاں دی ہیں۔ایسی حالت میں ہندوؤں کا مسلمانوں کے متعلق یہ کہنا کہ وہ شور کیوں مچاتے ہیں۔ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کسی کو گالیاں دے اور جب وہ اسے کسے کیوں گالیاں دیتے ہو یہ شرافت کا فعل نہیں تو گالیاں دینے والا کے دیکھو تمہیں گالیاں دینے سے منع نہیں کرتا پھر تم کیوں منع کرتے ہو۔ہندوؤں کے اس وقت خاموش رہنے کا یہ مطلب نہیں کہ یہ بڑے وسیع الحوصلہ ہیں بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندو مسلمانوں کے خلاف نہایت کمینے اور گندے نعل جاری رکھنے پر اصرار کر رہے ہیں۔اور ان میں شرافت اور انسانیت نہیں رہی۔یہ اصرار ان کا ایسا ہی ہے جیسے کوئی کسی کی بدکاری پر ناراض ہو تو بدکاری کرنے والا کے تم ناراض کیوں ہوتے ہو تم بھی کر لو۔کیا ایسے شخص کو وسیع الحوصلہ کہا جائے گا۔اس وقت مسلمانوں میں اس لئے جوش ہے کہ ان کے نبی کو برا کہا جاتا ہے۔اور دوسرے خاموش ہیں تو اس لئے کہ ان کے بزرگوں کو برا نہیں کہا گیا۔مسلمان اگر شور مچا رہے ہیں تو اس کی لئے کہ ان کے سینوں پر زخم لگے ہوئے ہیں۔اور دوسرے اگر خاموش ہیں تو اس لئے کہ انہیں کوئی زخم نہیں لگا۔پس یہ ان کے وسیع الحوصلہ ہونے پر دلالت نہیں کرتا بلکہ ان کی خود غرضی کا ثبوت ہے۔وہ دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت حملہ مسلمانوں پر ہو رہا ہے۔ورنہ اگر یہی حملہ ان کے مذاہب کے بانیوں اور ان کے بزرگوں پر ہو تا تو میں پوچھتا ہوں وہ شور مچاتے یا نہیں؟ موجودہ حالت میں اس طرح وسعت حوصلہ ثابت کرنا یا یہ کہنا کہ ان کے بزرگوں پر حملہ نہیں کیا جا سکتا۔غلط ہے۔اس وقت مسلمانوں کے شور مچانے کی دو وجہیں ہیں۔اول تو یہ کہ ان پر حملہ کیا گیا ہے اور جس پر حملہ کیا جاتا ہے وہ شور مچاتا ہے۔دیکھو میں نے نہایت تہذیب اور متانت کے ساتھ مسلمانوں کو اس طرف توجہ دلائی کہ ہندو چھ سو سال سے اور اس وقت سے جب کہ وہ ہمارے غلام تھے ہمارے درباروں میں ہمارے آگے سجدے کیا کرتے تھے۔ہم سے چھوت چھات کر رہے ہیں۔ہمارے ہاتھ کی چیز کھانا گناہ سمجھتے ہیں۔تو آج جب کہ مسلمان ہندوؤں کی اس چھوت چھات کی وجہ سے تباہی کے کنارے پہنچ چکے ہیں۔ان کو بھی چاہیے کہ کھانے پینے کی چیزیں مسلمانوں سے خریدیں ہندوؤں سے نہ خریدیں اور جس طرح ہندو ان کے ہاتھ کی چیزیں نہیں کھاتے وہ بھی ہندوؤں کے ہاتھ کی نہ کھائیں۔اس پر ہندو ایسے سیخ پا ہو رہے ہیں کہ جس ہندو اخبار