خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 150

10۔سال 1927ء دست اندازی نہ کرے گی تو کوئی ٹکراؤ نہیں ہو سکتا۔ہاں اگر باوجود اس بات کے کہ دنیاوی امور میں امام بھی گورنمنٹ کے احکام کے ماتحت ہے۔اور کوئی وجہ نہیں کہ اس کے اور گورنمنٹ کے حکم میں کوئی ٹکراؤ ہو۔گورنمنٹ مذہبی امور میں دست اندازی کرے۔اور باوجود اس بات کی کوشش کے کہ وہ اس دست اندازی کو چھوڑ دے۔گورنمنٹ دست اندازی نہ چھوڑے تو اس صورت میں بھی یہی ہو گا۔کہ امام یہ کہے گا کہ چونکہ ہمارے مذہب میں دخل دیا گیا ہے۔اور کوئی صورت سلجھاؤ کی نظر نہیں آتی۔اس لئے ہم اس ملک سے نقل مکانی کر کے کہیں اور چلے جاتے ہیں۔لیکن ہم ملک میں فساد نہیں کر سکتے بلکہ اس ملک کو چھوڑ سکتے ہیں۔بهر حال آسمانی حکومت کا نائب ہونے کے لحاظ سے امام جمات احمدیہ کو درجہ میں گورنمنٹ پر فضیلت حاصل ہے۔لیکن ساتھ ہی وہ شریعت کے حکم کے مطابق جس گورنمنٹ کے ماتحت رہے اس کے احکام کی اتباع کا پابند بھی ہے۔پس چونکہ گورنمنٹ مذہب میں دست اندازی نہیں کرتی۔اس لئے یہ صاف ہے کہ اسے امام جماعت احمدیہ سے اختلاف نہیں ہو سکتا۔لیکن اگر گورنمنٹ مذہبی امور میں دخل دے گی۔اور ان میں دست اندازی کرے گی۔تو پھر کوئی احمدی گورنمنٹ کی بات نہیں مانے گا۔اور اس صورت میں امام جماعت احمدیہ کا فرض ہو گا۔کہ گورنمنٹ پر حجت تمام کر کے اس کے ملک سے نکل جانے کا اپنی جماعت کو حکم دے۔لیکن اگر گور نمنٹ نہ تو اپنے حکم کو بدلے اور نہ ملک سے نکلنے کی اجازت دے۔تب بے شک احمدی آزاد ہوں گے کہ انسانیت کے ابدی حقوق کی حفاظت کے لئے جو کچھ چاہیں کریں۔پس احمدیت کی تعلیم نہایت امن پسند ہے۔اور اس کے مطابق فساد کا کوئی خطرہ نہیں۔اور گورنمنٹ برطانیہ کو فخر کرنا چاہئے کہ اسکے ملک میں ایسی با امن لیکن اپنے اصول کی پکی جماعت پائی جاتی ہے۔میں آخر میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ گورنمنٹ کی آنکھیں کھولے۔تاوہ اس حقیقت کو سمجھے کہ جو مذہب اپنی تعلیم کے لحاظ سے پر امن ہے وہ فساد نہیں کر سکتا۔اور اس کا کسی حکومت سے ٹکراؤ نہیں ہو سکتا۔خدا ان کو یہ بھی توفیق دے کہ وہ سوچیں کہ اگر دنیا میں ان کی حکومت قائم ہے تو ان کے اوپر بھی ایک حکومت ہے۔اور وہ خدا تعالیٰ کی حکومت ہے کسی کے دین اور مذہب میں دست اندازی اچھی نہیں ہوتی۔اس لئے میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ وہ کسی کے دین اور مذہب میں دست اندازی نہ کریں۔کیونکہ یہ عقل سے بعید ہے۔اور عقلمند انسان اپنے دائرہ سے باہر نہیں جایا کرتا۔بلکہ اس دائرے کے اندر رہ کر سب کام کیا کرتا ہے۔(الفضل ۸ / جولائی ۱۹۲۷ء)