خطبات محمود (جلد 11) — Page 123
خطبات محمود ۱۲۳ سال 1927ء سالوں سے اپنے مذہب کی تبلیغ ترک کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔وہ اگر سارے ہندوستان میں کہتے پھریں کہ اپنے مذہب کی تبلیغ کرو اور سب کو ہندو بنالو۔تو یہ ان کا حق ہو۔اور ایسا حق ہو جس کی وجہ سے مارے جانے والے کو شہید کا خطاب دیں۔لیکن اگر وہی بات احمدی جماعت کا امام کہتا ہے تو اسے فتنہ و فساد کہا جاتا ہے۔میں کہتا ہوں اگر میرے یہ کہنے سے کہ سارے ہندوستان کو مسلمان بنالو۔فساد پیدا ہوتا ہے۔تو پھر سارے مصلح فسادی تھے۔جب بھی کوئی مصلح کھڑا ہوتا ہے۔اس نیت اور اس ارادہ سے کھڑا ہوتا ہے کہ ساری قوم یا ساری دنیا کو اپنی تعلیم منوانی ہے۔اگر وہ دس آدمیوں کو منوالیتا ہے۔اور پندرہ کو چھوڑ دیتا ہے۔اور ان کو منوانے کے لئے کوشش نہیں کرتا تو وہ مصلح نہیں کہلائے گا۔اگر وہ پندرہ آدمیوں کے لئے کھڑا ہوا ہے۔تو اس کا فرض ہے کہ پندرہ کو ہی منوانے کی کوشش کرے۔دیکھو جس طرح کوئی ڈاکٹر یہ نہ کہے گا کہ اس کے پاس جو دس مریض آتے ہیں۔ان میں سے تو تو بچ جائیں اور ایک مرجائے۔اس کی یہی کوشش ہو گی کہ سب بچ جائیں۔اسی طرح ایک امام ایک مصلح ایک مبلغ کی بھی یہی نیت اور یہی ارادہ ہونا چاہئے کہ سب کو ہدایت نصیب ہو ورنہ اس سے بڑھ کر بے وقوفی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک شخص ہدایت دینے کے لئے کھڑا ہو اور وہ کے سب کے منوانے سے فساد پیدا ہوتا ہے۔اس لئے میں سب کو نہیں منواؤں گا صرف چند آدمیوں کو منواؤں گا اور باقیوں کو چھوڑ دوں گا۔ہر سچا مصلح اور ہر وہ انسان جس کی فطرت صحیح و سالم ہوگی یہی کہے گا کہ جس قدر لوگ میرے ذریعہ گمراہی سے بچ سکیں اتنے ہی لوگوں کو بچانے کی مجھے کوشش کرنا چاہئے۔اگر سارے بچ سکتے ہیں تو سارے ہی بچاؤں گا۔یہی میں نے بھی کہا ہے۔اور سارا ہندوستان کیا ہم کو تو بانی سلسلہ اور بانی اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ ساری دنیا کو اسلام کے جھنڈے کے نیچے لاؤ۔یہ اور بات ہے کہ ساری دنیا اس جھنڈے کے نیچے نہ آئے لیکن ہماری خواہش اور کوشش یہی ہے کہ ساری دنیا مسلمان ہو جائے۔پس یہ کہنا کہ میں نے کہا ہے سارے ہندوستان کو مسلمان بنالو یہ غلط ہے۔میں نے تو یہ کہا ہے۔ساری دنیا کو مسلمان بنالو۔مگر اس سے نہ کوئی فتنہ پیدا ہوتا ہے اور نہ فساد- کیونکہ میں نے یہ نہیں کہا کہ لوگوں کو جبر سے مسلمان بناؤ۔بلکہ یہ کہا ہے کہ اسلام کی تعلیم کے ذریعہ مسلمان بناؤ۔اس میں فتنہ و فساد کی کون سی بات ہے۔یہ مسلمانوں کے لئے کوئی نئی بات نہیں۔مسلمان تو جب سے پیدا ہوئے ہیں۔اسی وقت سے ان کا یہ فرض قرار دیا گیا ہے۔البتہ یہ نئی بات ہے کہ ہزاروں سالوں کی خاموشی کے بعد لالہ لاجپت رائے سوامی شردھانند اور ڈاکٹر