خطبات محمود (جلد 10) — Page 297
297 34 دعامذہب کی روح ہے (فرموده ۷ او سمبر (۱۹۲۶ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : مذہب کی جان اور خلاصہ اور اس کی روح اگر کوئی چیز ہے۔تو وہ صرف دعا ہے۔ہر ایک مذہب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے کبھی کسی زمانہ میں قائم ہوا اور ہر ایک وحی جو کسی زمانہ میں کسی گوشہ میں نازل ہوئی۔اس میں دعا کی تعلیم دی گئی ہے اور خصوصیت سے اس پر زور دیا گیا ہے۔اس زمانہ میں ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی گفتگو کو آپ کی تقریروں کو آپ کی تحریروں کو غرض آپ کے جس کام کو بھی ہم دیکھیں تو آپ مجسم دعا نظر آتے ہیں۔ان کی تحریریں دعا ہیں۔ان کا عمل دعا ہے۔ان کا ہر ایک کام دعا ہے۔اگر کوئی چیز ایسی دنیا میں ہے جو یقینی علاج ہے روحانی امراض کا اور تمام مشکلات کا تو وہ دعا ہے۔پس اگر کسی مذہب اور کسی تعلیم سے دعا کو نکال ڈالیں تو وہ مردہ چیز ہے۔کیونکہ زندگی تو زندہ شخص کے آثار سے اور اس کے کاموں سے نظر آتی ہے۔کسی چیز میں محض خوبصورتی کا پایا جانا زندگی پر دلالت نہیں کرتا۔زندگی تو کاموں سے نظر آتی ہے اور کوئی کام ایک زندہ چیز ہی دے سکتی ہے مردہ چیز تو خواہ کس قدر خوبصورت ہو کوئی کام نہیں دے سکتی۔ایک مردہ ہمیں کیا کام دے سکتا ہے۔اس کی خوبصورتی ہمارے لئے مفید نہیں ہو سکتی۔اسی طرح اگر کوئی تعلیم خوبصورت بھی ہو لیکن اس میں دعا کی تعلیم نہ ہو تو وہ مردہ ہے۔کیونکہ اس میں زندگی کے آثار نہیں۔اس میں وہ چیز نہیں کہ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی صفات ظاہر ہوتی ہیں۔اور وہ صرف دعا ہے کہ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے افعال ظاہر ہوتے ہیں۔اس لئے ایک شخص خواہ کتنا ہی اعلیٰ درجہ کا لکچر دے لیکن