خطبات محمود (جلد 10) — Page 288
288 جلسہ کے فوائد میں سے بہت بڑا فائدہ تعلقات کا پیدا ہوتا ہے۔ان کے ذریعہ سے تعاون اور ترقی کی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔گویا سال بھر کے لئے ترقی کا راستہ کھل جاتا ہے۔جلسہ کی وجہ سے ہر سال نئے آدمیوں سے واقفیت ہوتی ہے۔اور تعلقات قائم ہوتے ہیں اور اس طرح سلسلہ کی ترقی کے لئے وہ مدد اور سہولتیں میسر ہو جاتی ہیں۔جو اس کے بغیر بہت سے خرچ کرنے سے بھی میسر نہیں ہو سکتیں۔لوگ تو تعلقات قائم کرنے کے لئے خود سفر کرتے اور دوسروں کے پاس پہنچتے ہیں۔لیکن یہاں تو اللہ تعالیٰ خود ہمارے گھر پر لوگوں کو کھینچ کھینچ کر لاتا ہے۔اور بیٹھے بٹھائے ہمیں دوستوں کے حالات سے واقفیت بہم پہنچتی ہے۔اور تعلقات کے ذریعے ہمارے لئے کام کرنے کے رستے کھل جاتے ہیں اور کاموں میں سہولتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔تو اس خیال سے بھی دوست کوشش اور ہمت کے ساتھ مہمانوں کے لئے اپنی جگہیں پیش کریں اور یہ نہ ہو کہ جو کمرہ ضرورت اور استعمال سے زیادہ ہو وہ دیدیں بلکہ اس خیال سے کہ کم از کم ان کے لئے کتنی جگہ باقی رہ جاتی ہے اور زیادہ سے زیادہ کتنی جگہ مہمان کے لئے خالی ہو سکتی ہے۔یہ نہ خیال کریں کہ کم از کم کتنا حصہ دے سکتے ہیں۔بلکہ یہ خیال رکھیں کہ زیادہ سے زیادہ کتنا حصہ دے سکتے ہیں اور اپنے حصہ میں تھوڑی سے تھوڑی کتنی جگہ رکھ سکتے ہیں۔اگر اس خیال اور اس روح کے ساتھ دوست کام کریں گے تو کوئی تنگی نہیں رہے گی اور تمام گھروں میں کافی گنجائش نکل سکتی ہے۔اس صورت میں ہر سال زیادہ سے زیادہ آنے والے مہمان سما سکتے ہیں۔دوسری ضرورت کارکنوں کی ہے۔بے شک ہر سال بہت سے احباب اپنی خدمات پیش کرتے ہیں لیکن باوجود اس کے کچھ لوگ رہ جاتے ہیں اس لئے دفاتر اور دکانداروں کے سوا باقی تمام احباب کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس موقعہ پر جلسہ کے کاموں میں بھی حصہ لیں اور ابھی سے اپنے آپ کو پیش کریں۔ہاں وہ اس خدمت کو کسی انسان کی خدمت نہ سمجھیں بلکہ دین کی خدمت سمجھیں۔کیونکہ ہمارا جلسہ کوئی دنیوی تقریب کا جلسہ نہیں کوئی میلہ یا کانفرنس نہیں بلکہ یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ انتظام کیا گیا ہے کہ سال میں چند دن ایسے رکھے جائیں۔کہ جن میں روحانیت کے علوم اور معرفت کے نکات کو ایسے طور پر قائم کیا جائے کہ وہ کبھی مفقود نہ ہوں۔جب کہ تمام لوگ اپنا سارا مال اور ساری دولت اپنے آرام و آسائش اور دنیاوی ضروریات کے لئے خرچ کرتے اور سارا وقت اس پر صرف کرتے ہیں وہاں ہماری جماعت کے لوگ کم از کم کچھ دنوں کو دین کے لئے وقف کرتے اور سارا وقت اس پر صرف کرتے ہیں۔اور تکلیفیں برداشت