خطبات محمود (جلد 10) — Page 22
22 دیکھو لے لینے کا اقرار کرتا ہے۔پھر جتنے مطالبہ کی زیادہ سے زیادہ ضرورت ہو سکتی تھی۔اتنے کا ہی اقرار کراتا۔مگر خدا تعالیٰ نے بیعت کا حکم دیا ہے اور بیعت کا حکم دینا جتاتا ہے کہ ایسا موقعہ آسکتا ہے جبکہ دین کے لئے سب کچھ قربان کرنے کی ضرورت ہو اور پہلے زمانوں میں ایسے موقعے آتے رہے ہیں۔خطرناک وقت وہ ہوتا ہے جبکہ کھانا ختم ہو رہا ہو اور میسر آنے کا کوئی موقعہ نہ ہو اور انسان سمجھے جو کچھ میرے پاس ہے اگر وہ ختم ہو گیا تو میں بھوکا مرجاؤں گا۔ایسی حالت میں انسان عزیز سے عزیز چیز کو بھی بھول جاتا اور قریب سے قریب تعلق کی بھی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔کیونکہ اس وقت اپنی جان کی ہلاکت کا خطرہ ہوتا ہے۔دیکھا گیا ہے کہ بعض دفعہ مکانوں میں آگ لگی تو وہ پیارے جو ایک دوسرے کے لئے جان دینے کے لئے تیار ہوتے تھے۔ایک دوسرے کو دھکے دے دے کر باہر نکل آئے۔ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے عزیزوں کو بچا لاتے ہیں۔اور ایسے بھی ہوتے ہیں جو دو سروں کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی جان دے دیتے ہیں۔مگر ایسے بھی ہوتے ہیں جو عزیزوں کو دھکے دے کر پہلے خود باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔یورپ میں جب کسی سینما میں آگ لگتی ہے۔تو اس قسم کے نظارے دیکھے جاتے ہیں۔پچھلے ہی دنوں امریکہ میں ایک سینما میں آگ لگ گئی تو شائع ہوا تھا کہ کئی عورتوں نے اس افراتفری میں اپنے بچے کچل ڈالے اور ان کو چھوڑ کر بھاگ گئیں۔ایسے موقعہ پر جبکہ انسان سمجھتا ہے۔تباہی سامنے ہے۔اسے زیادہ گھبراہٹ ہوتی ہے۔بہ نسبت اس کے کہ آئندہ تباہی کا خطرہ ہو۔مگر ہم دیکھتے ہیں رسول کریم اے سفر کر رہے ہیں۔لوگوں کے پاس کھانا کم ہو جاتا ہے۔سفر ابھی لمبا ہے اور کوئی ایسا ذریعہ نہیں کہ مزید کھانا مہیا کر سکیں۔یا کہیں سے خرید سکیں۔بعض کے پاس کچھ کھانا رہ گیا ہے۔اور بعض کا بالکل ختم ہو گیا ہے۔اس وقت رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس جس کے پاس کچھ ہے لا کر رکھ دو۔اب وہ کسی کا نہیں ساری جماعت کا ہے۔اس وقت جس کے پاس جو کچھ تھا اس نے لا کر آپ کے سامنے رکھ دیا ۲؎ اور ایک نے بھی نہ کہا کہ اگر دوسرے مرتے ہیں تو مرنے دو ہماری جانیں تو ہمارے کھانے سے بچنے دو۔ایک جنگل بیابان میں جہاں کھانے پینے کی کوئی چیز مہیا نہیں ہو سکتی تھی یہ مطالبہ کہ جو کچھ کسی کے پاس ہے لاکر رکھ دو۔اس سے مراد اگرچہ وہ کھانا ہی تھا جو ان کے پاس تھا لیکن جن لوگوں نے ایسے موقعہ پر کھانا لا کر رکھ دیا۔ان کے متعلق یقین کامل کیا جا سکتا ہے کہ اگر یہی مطالبہ ان سے گھر پر کیا جاتا اور کسی کے گھر میں دس لاکھ روپیہ بھی ہوتا تو وہ سارے کا سارا لا کر رکھ دیتا۔کیونکہ جب انہوں نے موت سامنے دیکھتے ہوئے قربانی کی تو معلوم ہوا کہ وہ قربانی کے لئے تیار اور آمادہ