خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 197

197 سب وہ کام کرنے کی توفیق بخشے جو اس کے کامل فضل کو حاصل کرنے والے ہیں تا کہ ہم اس کے کامل فضل کو پانے والے بنیں۔(آمین) خطبہ ثانی میں فرمایا : آج جمعہ کی نماز کے بعد چند ایسے جنازے پڑھاؤں گا۔جن کا جنازہ پڑھنے والے یا تو ایک دو احمدی تھے یا بالکل نہ تھے۔(1) پروفیسر محمد صاحب بھاگلپوری کی بیوی قادیان کی رہنے والی اور صفدر خان صاحب مرحوم کی بیٹی تھیں۔وہ مدراس میں فوت ہو گئی ہیں۔ان کا جنازہ صرف تین چار احمدیوں نے پڑھا۔(۲) ملک غلام محمد صاحب عیدی پور۔ایک ایسے گاؤں میں فوت ہوئے ہیں جہاں کوئی احمدی نہ تھا اور لوگوں نے جنازہ پڑھے بغیر دفن کر دیا۔(۳) اہلیہ صاحبہ قاضی فضل الہی صاحب قریشی سٹیشن ماسٹر بھرواں ان کا جنازہ صرف ان کے لڑکے اور خاوند نے پڑھا ہے۔(۴) عبد الرحیم صاحب بمقام ڈلیہ فوت ہو گئے ہیں۔کوئی احمدی ان کے جنازہ پر موجود نہ تھا۔(۵) دختر میاں محمد شریف صاحب کلرک قلعہ میگزین راولپنڈی کوئی احمدی ان کا جنازہ نہیں پڑھ سکا۔(۲) والدہ میاں احمد الدین صاحب زرگر پنڈی چری شیخوپورہ (۷) محمد صغیر میر مهدی حسین صاحب کے لڑکے وہ اپنے گاؤں میں فوت ہو گئے ہیں۔یہ سارے جنازے انشاء اللہ تعالی نماز جمعہ کے بعد پڑھاؤں گا۔سب لوگ میرے ساتھ ان میں شامل ہوں۔ا بنی اسرائیل ۱۶ ا مشکوة كتاب الطب والرقى الفصل الاول (الفضل ۱۵ جون ۱۹۳۶ء)