خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 195

195 استغفار کرنا چاہئے۔اور اپنی کمزوریوں کو دور کر کے خدا کے سامنے عجز و انکسار کرنا چاہئے۔اس میں کوئی شک نہیں مومن کے لئے طاعون کی موت شہادت کی موت ہے۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ایسی موت سے دشمن کو استہزاء کا موقع ملتا ہے۔اور بہت سے کمزور لوگوں کو اس سے ٹھوکر لگتی ہے۔شہادت خوشی کا باعث ہوتی ہے مگر وہی شہادت خوشی کا باعث ہوتی ہے جس سے کسی کو ٹھر کر نہ لگے۔آپس کے معاملات کو درست کرنا چاہئے۔آپس کی لڑائیوں اور فسادوں کو چھوڑ دینا چاہئے۔کیونکہ آپس کی لڑائیوں اور فسادوں سے بھی عذاب آتے ہیں۔حدیثوں میں آتا ہے۔بدظنی پر بھی عذاب آتا ہے۔اور ایسے لوگوں پر سے اللہ تعالیٰ کی رحمت اٹھ جاتی ہے جو بد ظنی کرتے ہیں اور لڑائیوں اور جھگڑوں اور فسادوں میں لگے رہتے ہیں۔پس آپس میں محبت و پیار سے پیش آؤ۔منصوبہ بندی چھوڑ دو۔غیبت۔چغلی۔بد نظری ، استہزاء وغیرہ سے پر ہیز کرو۔ہمدردی کا مادہ پیدا کرو۔اگر کوئی بیمار ہو جائے تو اس کو چھوڑ نہ دو بلکہ اس کی خدمت کرو۔یہ نہیں کہ ہر وقت ہی اس کے پاس گرے رہو اور احتیاط نہ کرو۔بلکہ اس کے پاس بھی جاؤ اور اتنا ہی اس کے پاس جاؤ جتنا اس کے لئے ضروری ہے اور پوری پوری احتیاط کرو اور اگر موت ہو جائے تو مرنے والے بھائی کو اکرام کے ساتھ دفن کرو۔مگر اس کے اتنا قریب بھی نہ جاؤ کہ خود کو خطرہ پیدا ہو جائے۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو ان ایام میں جبکہ طاعون کا بڑا زور تھا یہ بھی فرمایا تھا کہ سخت طاعون کے دنوں میں مردہ کو غسل بھی نہ دیا جائے۔کیونکہ غسل دینے کے لئے بھی بہت قریب جانا پڑتا ہے۔اور جب ہم انہیں شہید قرار دیتے ہیں تو کیوں نہ شہید کے احکام ان پر جاری کئے جائیں۔پس اپنی پوری پوری حفاظت کرو اور احتیاط کی تدبیروں کو بھی استعمال کرو۔اور استغفار اور توبہ بھی کرو اور خدا کے حضور عاجزی کے ساتھ گر جاؤ۔۱۹۲۰ء یا ۱۹۲۱ء میں میں نے اسی مسجد میں ایک خطبہ پڑھا تھا۔جس میں بتایا تھا کہ مجھے رڈیا میں بتایا گیا تھا کہ طاعون پھر آئے گی۔ان دنوں پنجاب میں کچھ کم ہو گئی تھی۔علاقہ بھر میں دس بیس کیس بمشکل ہوتے تھے اور لوگ خیال کر رہے تھے کہ اب نہیں آئے گی اور گورنمنٹ نے بھی یہی کہا تھا کہ اب یہ یہاں سے اڑ گئی۔اب نہیں آئے گی۔اس وقت مجھے رڈیا میں طاعون کی بھینسیں دکھائی گئیں۔اور طاعون کا ایک مریض بھی دکھایا گیا۔جسے گلٹی نکلی ہوئی تھی۔پھر میں نے دیکھا کہ میں لوگوں کو کھینچ رہا ہوں کہ ہٹ جاؤ ادھر نہ جاؤ۔اس کے بعد ملک میں طاعون پھیل گئی۔اور سات سات ہزار سے زیادہ موت پنجاب میں ہوتی رہی۔گویا ایک ماہ میں ایک لاکھ سے زیادہ اموات کی نسبت