خطبات محمود (جلد 10) — Page 177
177 بعد از خدا بعشق محمدم مخمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم کہ خدا تعالیٰ کی محبت کے بعد محمد ان کے عشق میں مخمور ہوں اگر یہ کفر ہے تو خدا کی قسم میں سب سے بڑا کافر ہوں۔اسی طرح میں کہتا ہوں۔اگر وصیت کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کی خاطر مال جمع کرنے سے مجھے پر لالچ کا الزام آتا ہے۔تو بخدا میں اس سے بھی بڑا لالچی ہوں جس قدر کوئی مجھے کہہ سکتا ہے۔اگر وصیت کے الفاظ مجھے اجازت دیتے تو میں کہتا ۱/۳ سے کم کی وصیت نہیں ہو سکتی۔لیکن افسوس کہ الفاظ اس لالچ کی اجازت نہیں دیتے پس مجھے تو خدا کے دین کے لئے روپیہ جمع کرنے کی اس سے زیادہ حرص اور لالچ ہے جس قدر کوئی کہہ سکتا ہے۔اگر مجھے حضرت مسیح موعود کے منشاء کے خلاف کا خیال نہ ہوتا اور پھر مختلف طبائع کا خیال نہ ہو تا تو میں اس وقت کی ضروریات کے مطابق یہی فیصلہ کرتا کہ ۱۳ حصہ کی وصیت کی جائے۔اب میں ایسا تو نہیں کر سکتا۔لیکن میرا عقیدہ یہی ہے کہ یہ بھی جائز ہے۔جب احمدیت ترقی کرے گی۔ہماری جماعت کے لوگوں کی آمدنیاں زیادہ ہوں گی۔ہمارے ہاتھ میں حکومت آجائے گی۔احمدی امراء اور بادشاہ ہوں گے۔تو اس وقت ۱/۱۰ حصہ کی وصیت کافی نہ ہو گی۔اس وقت سلسلہ کی باگ جس کے ہاتھ میں ہوگی وہ اگر وصیت کے لئے ۱۳ حصہ ضروری قرار دیدے تو یہ جائز ہو گا۔مگر ابھی وہی زمانہ ہے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے وقت تھا۔اس لئے ابھی یہ حکم نہیں دیا جا سکتا گو دل یہی چاہتا ہے کہ زیادہ روپیہ آئے اور ۱۱۳ حصہ کی وصیت کی جائے۔مگر ایک زمانہ ایسا آ نے والا ہ۔۔۔وقت حکومت احمدیت کی ہو گی۔آمدنی زیادہ ہو گی۔مال و اموال کی کثرت ہو گی۔اور ۱/۱۰ حصہ داخل کرنا کوئی بات ہی نہ گی۔مگر اب تھوڑی جماعت ہے۔جس نے بہت بوجھ اٹھانا ہے۔احمدیت کی وجہ سے ہمارے آدمیوں کی ملازمتیں رکی ہوئی ہیں۔ترقیاں رکی ہوتی ہیں۔تجارتیں رکی ہوئی ہیں۔ان باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ۶۰ یا ۶۵ فیصدی جو چندہ دیتے ہیں وہی بڑا سمجھا جاتا ہے۔لیکن جب تجارت اور حکومت ہمارے قبضہ میں ہو گی اس وقت اس قسم کی تکلیفیں نہ ہوں گی۔ایسے زمانہ میں اگر وصیت کے چندہ کو انتہائی حد تک بڑھا دیا جائے تو یہ بھی جائز ہو گا۔کیونکہ اصل غرض اس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مالی قربانی کا موقعہ دینا ہے۔اور مال زیادہ ہو تو زیادہ دینے سے ہی قربانی ہو سکتی ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ فرماتے کہ جو شخص وصیت کئے بغیر مرے وہ دوزخی ہے۔تو میں کہتا ہوں وصیت کو وسیع کرو لیکن جب کہ آپ نے یہ نہیں لکھا۔اور وصیت اس