خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 138

138 کے ظلم و ستم کرتے رہے۔مگر اس نے اپنی قربانیوں کے ذریعہت آہستہ آہستہ آزاد ہونا شروع کیا۔پین ہمیشہ انگریزوں کو ذلیل کرتا رہتا تھا۔کیونکہ اس کے پاس زبردست جنگی بیڑا تھا۔وہ انگلینڈ کو ابھرنے نہیں دیتا تھا۔آخر کار انگلینڈ کے بڑے بڑے لوگوں نے تنگ آکر یہ تجویز کی کہ سپین کے جہازوں پر متواتر ڈاکے ڈال کر اس کی طاقت کو توڑ دیا جائے۔چونکہ انگلینڈ سپین کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا۔اس لئے ان لوگوں جو کو سپین کے جہازوں پر حملے کرتے تھے۔مجرم قرار دینا پڑے گا۔اور اس طرح ان کے لئے اپنے ملک میں بھی امن نہ رہا۔مگر باوجود اس کے انہوں نے کوئی پروا نہ کی اور سالہا سال سمندر میں رہائش اختیار کرتے ہوئے سپین کی بحری طاقت کو توڑنے میں مصروف رہے۔اور اس طرح انہوں نے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر اور زر و مال تباہ کر کے سپین کی طاقت کو کمزور کر دیا۔ایسی ہی قربانیوں کا آج یہ نتیجہ ہے کہ انگلینڈ سے سارا یورپ اسی طرح ڈرتا ہے۔جیسے ہندوستانی ڈرتے ہیں۔پس تمام ترقی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ کسی قوم کے افراد ہر قسم کی قربانیاں کریں۔اور اسی طرح سینکڑوں سال تک اس قوم کی نسلیں متواتر قربانی کرتی چلی جائیں۔تب جا کر کوئی قوم ترقی کی وارث ٹھرتی ہے۔در حقیقت کوئی ترقی اور کوئی زندگی بغیر فنا کے نہیں حاصل ہو سکتی۔حضرت خلیفہ اول ال فرمایا کرتے تھے۔دیکھو روٹی پکانے والے کو ایک روٹی کے لئے تین دفعہ تنور میں الله رضي جانا پڑتا ہے۔ایک دفعہ لگانے کے لئے دوسری دفعہ اسے دیکھنے کے لئے اور تیسری دفعہ اتارنے کے لئے۔گویا ایک روٹی کے لئے اسے تین دفعہ جہنم میں جانا ہوتا ہے۔یہی مثال تمام ترقیات میں چلتی ہے۔کوئی ترقی بغیر قربانی کے نہیں۔تمام قومی ترقیاں افراد کی قربانی پر منحصر ہوتی ہیں۔اور افراد بھی کبھی ترقی اور عزت نہیں حاصل کر سکتے۔جب تک تمام کی تمام قوم قربانی کر کے عزت اور ترقی نہ حاصل کرے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے احسب الناس ان يتركوا ان يقولوا آمنا وهم لا يفتنون (العنکبوت (۳) کیا لوگوں نے سمجھ رکھا ہے۔وہ صرف اتنے پر ہی چھوڑ دئے جائیں گے کہ انہوں نے کہہ دیا ہم ایمان لے آئے نہیں جس طرح سونا بھٹی میں ڈال کر صاف کیا جاتا ہے اسی طرح ہم مومنوں کو بھٹی میں ڈال کر صاف کریں گے۔کیونکہ جب تک ترقی چاہنے والی قوم ایسے مصائب میں نہ پڑے جو آگ کی بھٹی کا نمونہ ہوں تب تک وہ قوم کبھی ترقی اور کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتی اور جانتے ہو آگ میں پڑنے والے کا کیا باقی رہ جاتا ہے۔سوائے اس کے کہ وہ جل کر راکھ ہو جائے۔اور