خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 95

95 ہوں تو غیر مبایعین شور مچا دیتے ہیں۔کہ اتنا خرچ کر کے جماعت کا مال تباہ کر دیا اور اگر ساتھ نہ لے جاؤں تو پھر کہتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے۔میاں صاحب سے جماعت تنگ آگئی ہے۔کیونکہ ان کے ساتھ شان و شوکت نہیں۔میں کہتا ہوں بھلے مانسو! مجھے اس کے سوا تم ہی کوئی طریق بتاؤ کہ نہ تو میرے ساتھ سفر میں آدمی جائیں اور نہ میں بغیر آدمیوں کے جاؤں۔اگر آدمی جاتے ہیں۔تو اس کے یہ معنے لئے جاتے ہیں کہ میں شہرت اور شوکت چاہتا ہوں اور جماعت کا روپیہ برباد کرتا ہوں اور اگر نہ لے جاؤں تو پھر اعتراض ہوتا ہے کہ جماعت میں میرے خلاف ایک جوش پیدا ہو گیا ہے۔پیچھے جب میں ولایت گیا تو شور مچا دیا کہ بھلا بارہ تیرہ آدمیوں کو ساتھ لے جانے کی کیا ضرورت تھی۔اس طرح قوم کا روپیہ برباد کیا گیا ہے۔اب میں پوچھتا ہوں مہربانی کر کے مجھے بتائیے۔میں وہ کون سا طریق اختیار کروں کہ جب میں کسی سفر پر جاؤں تو میرے ساتھ اور آدمی جائیں بھی اور نہ بھی جائیں۔یہ تو ویسی ہی بات ہے جیسے پنڈت دیانند نے انجیل پر ایک یہ اعتراض کیا ہے کہ انجیل میں آتا ہے خدا سب دنیا کی دعائیں سنتا ہے۔اور زمین گول ہے۔اس لئے معلوم ہوا کہ خدا رات دن دعائیں ہی سنتا رہتا ہے۔پھر کیا رات دن یہ کام کرنے سے تھکتا نہیں۔یہ ناممکن ہے کہ وہ نہ تھکے اور بائبل میں لکھا ہے خدا نے زمین و آسمان پیدا کرنے کے بعد آرام کیا۔اس پر اعتراض کیا جاتا ہے۔کہ وہ خدا کیسا ہوا جو تھک جائے۔یہی طریق غیر مبایعین کا ہے۔میں کہتا ہوں اگر مولوی محمد علی صاحب وغیرہ کی تحریریں صلح کے متعلق واقعی سچائی اور دیانتداری پر مبنی ہوتیں۔تو وہ بھی میری طرح ہی اپنے اخبار والوں کو ذاتیات پر بے ہودہ اعتراضات کرنے سے روک دیتے۔لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔اور ان کا ایسا نہ کرنا بتاتا ہے کہ وہ صلح کے لئے کہنے کے لئے تو بہت کچھ تیار ہیں۔لیکن کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں۔مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میری ذات پر اعتراضات کرنے سے کون ساند ہی مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔آیا میرے اپنے ساتھ سفر میں آدمی لے جانے یا نہ لے جانے کی بحث نبوت کا مسئلہ حل جاتا ہے۔یا خلافت کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔کون سا مذہبی مسئلہ ایسی باتوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔میں اگر اپنی جماعت کا مال کھاتا ہوں۔تو میری جماعت کا حق ہے کہ مجھ پر اعتراض کرے۔اور اگر نہیں کھاتا تو بھی میرا اور اس کا معاملہ ہے۔ان لوگوں کو ہمارے ان معاملات میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے۔میں تو مالی معاملات میں اس قدر احتیاط کرتا ہوں کہ جو روپیہ آتا ہے۔میں اسے ہاتھ بھی نہیں