خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 85

85 کوئی کہے ایسا شخص عبادت کے لئے کھڑا ہی کس طرح ہو سکتا ہے۔جس کا دل نہیں مانتا۔مگر جانا چاہئے۔انسان میں دو کیفیتیں ہوتی ہیں۔ایک عقل کی اور ایک احساسات کی۔عقل کو انسان مجبور کر سکتا ہے۔مگر جذبات اور احساسات کو مجبور نہیں کر سکتا۔جو عبادت کے لئے کھڑا ہوتا ہے وہ عقل اور دلیل سے یہ بات منوا لیتا ہے۔مگر دلیل سے محبت پیدا نہیں کی جا سکتی۔محبت خدائی فعل سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اور اس کے باریک ذرائع ہیں اور ایسے باریک کہ انسان کے قبضہ میں وہ ایسے نہیں ہیں جیسے عقل اس کے قبضہ میں ہے۔مثلاً ایک شخص کے سامنے جب حضرت عیسی کے فوت ہونے کے دلائل پیش کئے جائیں۔اور وہ نہ مانے تو کہیں گے۔کیسا پاگل ہے۔ایسے زبردست دلائل نہیں مانتا۔لیکن اگر کسی سے کہیں فلاں سے محبت کرو اور وہ نہ کرے تو یہ نہیں کہہ سکتے وہ پاگل ہے۔اتنی دفعہ کہا ہے کہ فلاں سے محبت کرو مگر نہیں کرتا۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ دل میں محبت پیدا کرنا اس کے اختیار کی بات نہیں ہے۔دیکھو خدا تعالیٰ رسول کریم ان سے فرماتا ہے۔اگر خدا کا فضل جاری نہ ہوتا اور تو ساری دنیا کا مال خرچ کر دیتا۔تو بھی لوگوں کے دلوں میں اپنی محبت نہ پیدا کر سکتا۔گو عقل یہ کہتی ہے کہ جو احسان کرے اس سے محبت کرو۔مگر جذبات دل کو مجبور نہیں کیا جا سکتا۔کہ اس طرح محبت پیدا ہو۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے بعض لوگوں پر بڑے بڑے احسان کئے۔مگر ان کے دلوں میں ذرا بھی محبت نہ پیدا ہوئی۔عبد اللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ رسول کریم لالا نے کیسے کیسے احسان کئے۔مگر چونکہ وہ لوگ خدا تعالیٰ کے حضور ایاک نعبد و ایاک نستعین سچے دل سے نہ کہتے تھے۔اس لئے ان کے دلوں میں رسول کریم کی کچھ بھی محبت نہ پیدا ہوئی۔ان کے دل میں جو یہ خیال تھا کہ ہم سے کوئی سلوک اور احسان نہیں کیا گیا۔یہ محبت کی کمی کا ہی نتیجہ تھا اور کوئی عقلی دلیل یہاں کام نہ کر سکتی تھی۔یہاں خدا کا فضل ہی کام دے سکتا تھا اور اس نے مخلص صحابہ کا دل رسول کریم ﷺ کی طرف پھیر دیا تھا۔حضرت عمرو بن العاص جب فوت ہونے لگے۔تو یہ کہہ کر رو پڑے کہ میں نہیں جانتا میرا کیا انجام ہوگا۔ان کے بیٹے نے ان سے کہا۔آپ نے بڑی بڑی خدمات کی ہیں۔آپ کو اس قدر گھبراہٹ کیوں ہے۔انہوں نے کہا۔عبداللہ یہ ان کے بیٹے کا نام تھا۔تمہیں نہیں معلوم مجھ پر کئی زمانے آئے ہیں۔ایک وقت ایسا بھی آیا جب میں یہ بھی پسند نہ کرتا تھا کہ ایک چھت کے نیچے میں اور رسول کریم جمع ہوں۔اس وقت مجھے رسول کریم سے بڑھ کر کوئی مبغوض نہیں نظر آتا تھا۔اور اسی وجہ سے میں نے کبھی آپ کی شکل نہ دیکھی تھی۔پھر ایک زمانہ مجھ پر ایسا آیا کہ خدا تعالیٰ نے میرا