خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 4

4 دوسری بات جس کی طرف میں احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اس سال خاص طور پر مد نظر رکھیں۔وہ جماعت کی تربیت ہے۔جماعت خدا کے فضل سے اب اتنی ترقی کر گئی ہے کہ تربیت کی ضرورت خاص طور پر محسوس ہو رہی ہے۔اس پہلو میں ایک معاملہ خاص توجہ کا مستحق ہے۔اور وہ آپس کے جھگڑوں کا معاملہ ہے۔کثرت جماعت کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ حقوق ٹکرا جاتے اور اس طرح مختلف پارٹیاں بنی شروع ہو جاتی ہیں پچھلے سال میں نے سیالکوٹ کے احمدیوں کو توجہ ولائی تھی۔اور اب سب سے کہتا ہوں کہ جب کوئی لڑائی جھگڑا پیدا ہو جائے تو پھر کسی کو حج مقرر کرنا اتنا مفید نہیں ہو سکتا۔جتنا پہلے سے مقرر کرنے سے ہو سکتا ہے۔اس لئے ضرورت ہے کہ ہر جگہ کی جماعتیں اس بارے میں انتظام کریں۔جہاں بڑی جماعتیں ہوں وہاں ۵-۶ آدمیوں کی اور جہاں چھوٹی ہوں۔وہاں تین چار کی پنچایت بنائی جائے اور ساری جماعت یہ طے کرے کہ کسی جھگڑے میں یہ پنچایت جو فیصلہ کرے گی اسے منظور کیا جائے گا۔پھر جب کوئی جھگڑا ہو تو اس پنچایت میں پیش کیا جائے۔اور فریقین اقرار کریں کہ ہم اس کا فیصلہ مانیں گے۔اور دوسرے لوگ یہ اعلان کریں کہ جو فیصلہ پنچایت کرے گی ہم اس کی تائید کریں گے۔اس بارے میں تفاصیل میں بعد میں شائع کروں گا۔مگر جلد سے جلد ہر جگہ پنچایت ضرور قائم ہو جانی چاہئے تاکہ فتنہ و فساد کے دروازے بند ہو جائیں۔تیسری بات جو اس سال مد نظر رکھنی ضروری ہے وہ جماعت کی مالی حالت ہے میں نے بتایا ہے کہ کوئی نیا کام اس وقت تک نہ شروع کیا جائے گا جب تک مالی حالت قابل اطمینان نہ ہو جائے۔مگر موجودہ حالت اس حد تک پہنچی ہوئی ہے کہ جو کام ہو رہے ہیں ان میں بھی رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔اس کے لئے ایک صورت تو میں نے یہ بتائی تھی کہ جب تک مشکلات دور نہ ہو جائیں اس وقت تک هر سال ۴۰ فیصدی چنده خاص ادا کیا جائے۔اس کے علاوہ دو اور ذرائع بھی ایسے ہیں جن پر عمل کرنے سے مالی حالت درست ہو سکتی ہے۔ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ جو نادہند ہیں یا پوری شرح سے چندہ نہیں دیتے ان سے پورا چندہ وصول کیا جائے۔اس طریق سے موجودہ حالت میں جس قدر زائد آمدنی کی ضرورت ہے اس کا ۵۰ فی صدی اس طرح وصول ہو سکتا ہے۔مثلا " ۴۰ ہزار کی ضرورت ہے تو کم از کم ۲۰ ہزار اس طرح وصول ہو سکتے ہیں۔پس احباب اس بات کی کوشش کریں کہ اپنے اپنے مقامات میں جو لوگ چندہ دینے میں سست ہیں۔ان سے باقاعدہ وصول کریں۔اور جو مقررہ شرح سے کم چندہ دیتے ہیں۔ان سے پوری شرح پر چندہ لیا جائے۔دوسرا طریق یہ ہے کہ وصیت کرنے پر زور دیا جائے۔اگر دو ہزار نئے موصی ہو جائیں۔تو پھر