خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 2

2 نہیں سکتی۔چاروں طرف سے آوازیں آ رہی ہیں کہ خدا کے رسول کا پیغام ہم تک پہنچایا جائے۔لیکن ہمارے پاس ان سب کے پاس جانے اور انہیں پیغام پہنچانے کے ذرائع نہیں ہیں۔اور اس کی بظاہر ایک ہی صورت نظر آتی ہے کہ ہندوستان میں ہماری تبلیغ وسیع ہو۔جب تک ہندوستان میں تبلیغ کا حلقہ وسیع نہ ہوگا اور خصوصا" پنجاب میں اس وقت تک ہم وہ بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہو سکیں گے جس کا اٹھانا ہمارا فرض ہے۔میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس سال جلسہ پر بیعت پہلے سالوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔تین سو کے قریب مردوں نے اور ساڑھے تین سو کے قریب مستورات نے بیعت کی ہے۔پچھلے سالوں میں پانچ سو تک تعداد پہنچتی تھی۔اس سال چھ سو سے بھی زیادہ تعداد نے بیعت کی ہے۔پھر تعداد کے زیادہ ہونے کے علاوہ اس سال ایک اور بھی خصوصیت ہے۔اور وہ یہ کہ بیعت کرنے والوں میں بالعموم ایسا طبقہ تھا جو اپنے اپنے حلقہ میں اثر اور رسوخ رکھنے والا ہے۔گویا اس سال کمیت کے لحاظ سے بھی اور کیفیت کے لحاظ سے بھی بیعت کرنے والوں کو خاص خصوصیت حاصل تھی۔تعلیم یافتہ اور بارسوخ طبقہ نے پچھلے سالوں کی نسبت زیادہ بیعت کی۔پھر ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ ایسے علاقوں کے لوگوں نے بیعت کی ہے جہاں اس وقت تک ہماری جماعت نہ تھی اور بیس بائیس سال سے ہم وہاں کوشش کر رہے تھے۔اس دفعہ خدا کے فضل سے تین چار ایسے علاقوں کے لوگوں نے بیعت کی ہے جو احمدیت کی مخالفت کے گڑھ تھے۔پھر جلسہ پر ملاقات کے دوران میں احباب سے معلوم ہوا ہے کہ عام طور پر اس تبلیغی پروگرام کے نتیجہ میں جو پچھلے سال سے شروع کیا گیا ہے ایسے علاقوں میں بھی زندگی کے آثار پیدا ہو گئے جہاں اس سے پہلے بالکل خاموشی تھی۔ان علاقوں میں کثرت سے لوگ احمدیت کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔تبلیغ کا پروگرام ایسا نہیں جسے ایک سال کے بعد ترک کر دیا جائے اور یہ سمجھ لیا جائے کہ اب کام ہو چکا۔کیونکہ تبلیغ ایک جنگ ہے اور جنگ بھی روحانی جنگ اور روحانی جنگیں لمبی ہوا کرتی ہیں۔اس لئے میں سب سے پہلے تبلیغی پروگرام کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اور دوستوں سے امید رکھتا ہوں کہ ان میں سے جنھوں نے پہلے اس طرف توجہ نہیں کی وہ اب کریں گے اور جنھوں نے پہلے توجہ کی ہے وہ اس میں اور زیادتی کریں گے۔میں نے پہلے بھی اپنی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلائی تھی اور اب بھی دلاتا ہوں کہ تبلیغ لیکچروں اور مباحثوں سے نہیں ہوا کرتی۔ان سے لوگوں میں جوش تو پیدا کیا جا سکتا ہے۔مگر احمدیت قبول نہیں کرائی جا سکتی۔یہ کام افراد سے ملنے اور گفتگو کرنے سے ہی ہو سکتا ہے جن جماعتوں نے