خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 28

28 کی غلطیاں دیکھ کر ہمت ہار دیتے ہیں۔میں کہتا ہوں۔دنیا میں کون سا انسان ایسا ہو گا جس سے کبھی غلطی نہیں ہوئی ہر انسان سے غلطی ہوتی ہے اور بغیر غلطی کے کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی وہ قوم جو اس بات سے ڈرتی ہے کہ اس سے غلطی نہ ہو جائے۔وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔دیکھو یہ لوہے چینی کے برتن جو استعمال میں آتے ہیں یہ جرمنی کے ایک نواب نے ایجاد کئے تھے۔اس نے اپنی ساری دولت اس میں صرف کر دی۔وہ بہت سا خرچ کر کے بھٹی تیار کرتا لیکن جب نکالتا تو لوہے کا لوہا ہوتا۔اس طرح جب اس کی اپنی ساری دولت صرف ہو گئی تو اس نے قرض لے کر خرچ کرنا شروع کیا مگر پھر بھی ناکام رہا اور قرض خواہوں کے مطالبہ پر قید بھی رہا۔جب قید سے نکلا تو چونکہ لائق آدمی تھا پروفیسری پر مقرر ہو گیا وہاں سے جو کچھ ملتا وہ بھی اسی کام میں صرف کر دیتا اور یہاں تک حالت پہنچ گئی کہ اس کے بیوی بچوں کو فاقے آنے لگے اور وہ اس قدر کنگال ہو گئے کہ شرفاء ان کو اپنی مجالس میں نہ بلاتے اور اس کے بیوی بچے اپنے رشتہ داروں سے جو بڑے امیر اور دولتمند تھے نہ ملتے۔کیونکہ ان کے پاس پہننے کے لئے کپڑے نہ تھے۔ایک دن جب اس نے بھٹی چڑھائی اور اس کے پاس ایندھن نہ تھا اور اس کا ارادہ تھا کہ گھر کا مال اسباب بھٹی میں جلا دوں تو اس نے بیوی سے کہا کپڑے مانگ کر ایک جگہ چلی جائے۔اس سے اس کی غرض یہ تھی کہ گھر کا اسباب جلتا دیکھ کر اسے صدمہ نہ ہو اور وہ مزا ہم نہ بنے۔جب وہ چلی گئی تو اس نے کرسیاں میز وغیرہ توڑ تاڑ کر جلا دیں حتی کہ مکان کی چھت اکھیڑ کر بھی جلا دی۔اس بھٹی کو جب اس نے نکالا تو جس بات کے لئے وہ کوشش کر رہا تھا وہ پوری ہو گئی یعنی برتن تیار ہو گئے تھے اس وقت اسے اس قدر خوشی ہوئی کہ اسی حالت میں وہ دوڑتا ہوا مجلس میں چلا گیا اور جاکر کہنے لگا۔میں کامیاب ہو گیا۔اب ساری دنیا اس ایجاد سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔اس نے غلطیاں کیں اور بار بار غلطیاں کیں۔مگر نہ گھبرایا۔آخر کامیاب ہو گیا۔کیا کوئی نواب چاہتا ہے کہ اپنی دولت ضائع کر کے چوہڑوں کی حیثیت میں آجائے۔ہرگز نہیں۔اسی طرح وہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس کی دولت ضائع ہو مگر قانون قدرت یہی ہے کہ کامیابی تب ہو جب بعض حصے ضائع ہوں۔پس کارکنوں کا فرض ہے کہ جو کام ان کے سپرد ہو اسے نیک نیتی سے کریں اور ایسے طریق سے کریں جس سے نیک نتیجہ نکلنے کی امید ہو۔لیکن اگر باوجود اس کے پھر نتیجہ اچھا نہیں نکلتا تو جو کچھ صرف ہوا اسے ضائع نہیں قرار دیں گے۔بلکہ وہ ایسا ہی ہو گا جیسے کھیت میں بیج۔وہ کسی نہ کسی وقت پھل لائے گا۔