خطبات محمود (جلد 10) — Page 309
309 36 طریق مباہلہ اور اس کی شرائط (فرموده ۳۱ دسمبر ۱۹۲۶ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں نے جماعت کو کئی دفعہ اس طرف توجہ دلائی ہے کہ مباہلہ ایک ایسا قانون ہے جو عام قوانین کے خلاف جاری ہوتا ہے۔اسلئے جب تک کہ مباہلہ صحیح طریق پر نہ ہو اور اپنے تمام شرائط کے ساتھ نہ ہو۔تب تک اس کا صحیح نتیجہ نہیں نکل سکتا۔لیکن نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ باوجود اس کے کہ متواتر مباہلہ کی حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے اور اس حقیقت کو مد نظر رکھنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔اور کئی دفعہ بتایا ہے کہ کس صورت میں اور کس حد تک اور کن شرائط کے ساتھ مباہلہ جائز ہے۔پھر بھی دوست اس معاملہ میں غلطی کر بیٹھتے ہیں۔اور پھر اس غلطی پر ایک اور غلطی یہ کرتے ہیں کہ باوجود غلطی کے یہ امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس غلطی پر پردہ ڈالے اور اس کا خمیازہ بھگنے سے ان کو بچائے حالانکہ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالٰی محض ان کی عزت کے لئے ان کی غلطی کے باوجود اپنے قوانین کو توڑ ڈالے۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ مباہلہ ایک تقدیر خاص ہے۔مباہلہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ایک نیا قانون، جاری کرتا ہے جو عام قوانین سے بالکل بالا ہوتا ہے۔مثلاً انسان کی موت کے لئے اس کا یہ عام قانون ہے کہ اس میں بعض قسم کے زہریلے جراثیم داخل ہو جائیں یا زہریلے مواد جمع ہو جائیں تو وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔پھر اس کا قانون ہے کہ جس حد تک دنیا میں زندہ رہنے کے لئے اس کے قومی رکھے گئے ہیں اس حد تک ان قومی کے صرف کر دینے کے بعد انسان مرجاتا ہے یا یہ کہ کسی انسان کی گردن پر تلوار پڑتی ہے تو وہ ہلاک ہو جاتا ہے اسی طرح اور کئی ذرائع اس کی موت کے رکھتے ہیں۔لیکن مباہلہ ان عام قوانین میں سے کسی قانون