خطبات محمود (جلد 10) — Page 289
289 کرتے ہیں۔اور روپیہ خرچ کرتے ہیں۔قادیان کے رہنے والے اصحاب کو تو بہت سے مواقع ان نکات کے سننے اور فائدہ اٹھانے کے ملتے ہیں اور ہمیشہ وہ کچھ نہ کچھ سنتے رہتے ہیں۔لیکن باہر سے آنے والے دوستوں کو اس قدر وقت نہیں ملتا۔اس لئے ان کے لئے یہ سنہری موقعہ ہوتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے دین کے لئے چند روزہ وقف کر کے اور تکلیف اٹھا کر یہاں تبلیغ و اشاعت کے لئے معلومات حاصل کریں اور معرفت و روحانیت کی ترقی کے سامان معلوم کریں۔اس لئے ان دنوں میں قادیان کے دوستوں کا خدمت کرنا در حقیقت دین کی اشاعت اور تبلیغ کرتا ہے۔وہ لوگ جو روٹی پکاتے ہیں اور وہ جو روٹی کھلاتے ہیں اور وہ لوگ جو لائینیں جلاتے ہیں اور وہ جو پانی پلاتے ہیں۔غرض جو کام بھی مہمانوں کے لئے کرتے ہیں۔وہ در حقیقت تبلیغ کر رہے ہیں یا تبلیغ میں مدد دے رہے ہوتے ہیں۔یہ مت خیال کرو کہ تم مہمانوں کے لئے روٹی لا رہے ہو اور روٹی کھلا رہے ہو یا روٹی کے لئے انتظام کر رہے ہو یا ان کے سامانوں کی حفاظت کر رہے ہوں بلکہ جلسہ پر تمہارا ہر ایک کام جو مہمانوں کی خاطر ہے وہ دین کی خدمت ہے۔وہ تعلیم ہے وہ تدریس ہے۔ہر شخص جو روٹی لے جاتا اور کھانا کھلاتا اور مہمان کی خاطر و تواضع میں یا اس کے سامان کی حفاظت میں مشغول ہے۔وہ در حقیقت ان لکچروں میں حصہ دار ہے۔کیونکہ جو لوگ جلسہ گاہ میں بیٹھے لکچر سن رہے ہیں۔وہ ان ہی کی خدمت اور انہیں کی محنت کا نتیجہ ہے۔اس لئے جس طرح وہ شخص خدا تعالٰی کے فضلوں کا وارث ہے کہ جو خدا کی راہ میں کام کر رہا ہے اور تبلیغ میں حصہ لے رہا ہے۔اسی طرح یہ شخص بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہو گا۔پس یہ خدمت کوئی دنیوی خدمت نہیں بلکہ دینی خدمت ہے۔جس کے اجر کا ہم اندازہ نہیں کر سکتے۔معمولی مهمان نوازی کا اتنا بڑا اجر ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو ضائع نہیں کرتا تو ان مہمانوں کی خدمت کے اجر کا ہم کہاں اندازہ لگا سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوں۔دیکھو حضرت نبی کریم کو جب پہلے پہل الہام ہوا تو آپ کو خیال ہوا کہ شائد میں ابتلا میں ڈالا گیا ہوں۔تو اس وقت آپ کے اس خیال کو دور کرنے کے لئے اور تسلی دلانے کے لئے حضرت بی بی خدیجہ نے جو باتیں عرض کیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی۔کہ آپ تو مہمان نوازی کرتے ہیں آپ کیونکر ضائع ہو سکتے ہیں۔اے مہمان کی خدمت کرنے والے کو کب ٹھوکر میں ڈالا گیا کہ آپ ابتلا میں ڈالے جائیں گے۔اللہ تعالی کبھی مہمان کی خدمت کرنے والے کو ٹھوکر میں نہیں