خطبات محمود (جلد 10) — Page 272
272 اور پیاسا نہیں رہے گا۔یہ منعم علیہ کا مقام ہے اور اس انعام کے پانے والے یا نبوت کے مقام پر ہوتے ہیں یا صدیقیت کے مقام پر یا شہادت کے مقام پر ہوتے ہیں۔اور ادنیٰ سے ادنی رتبہ صالحیت کا ہے۔اس کے مقابل دوسری حالت انسان کی یہ ہوتی ہے کہ مغضوب علیہ میں داخل ہو جائے یعنی ایسے افعال کرے جن سے خدا کا غضب اس پر نازل ہو۔بہت سے لوگ منعم علیہ ہو کر پھر ایسی ٹھوکر کھاتے ہیں کہ وہ مغضوب علیہ بن جاتے ہیں۔اسی لئے فرمایا جو منعم علیہ سے بدل کر مغضوب علیہ بن جاتے ہیں وہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو ایسی حرکات کر بیٹھتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر ناراض کر لیتے ہیں مثلا" کبھی وہ اس کے دشمنوں کو مدد دیتے ہیں کبھی اس کی نافرمانی کر بیٹھتے ہیں۔مغضوب علیہ وہ شخص ہے جو دشمن کو مدد دے اور ضال وہ ہے جو نادان دوست ہو۔دوستی کا صحیح مفہوم نہ ادا کرے۔مثلا" ایک فریق تو وہ ہے کہ بنو دشمن کے ہاتھ میں اسلام کو نقصان پہنچانے والے ہتھیار دیتا ہے اور ایک فریق ہے جو نادانی سے دشمنی کرتا ہے وہ عمدا " دشمنی نہیں کرتا۔مگر وہ ایسے ایسے کام کر بیٹھتا ہے۔جن کے نتیجہ میں دشمنی ہوتی ہے گویا مغضوب علیہ تو وہ ہے جو ظاہر اور حقیقت دونوں کو مٹاتا ہے۔اور ضال صرف حقیقت کو مٹاتا ہے۔یہ تین گروہ ہیں جو اس سورہ میں بیان کئے گئے ہیں اور ایک چوتھا گروہ ہے جو سالک ہے یعنی ابھی رستہ پر چل رہا ہے۔اس کے متعلق ابھی فیصلہ نہیں کہ کن لوگوں میں شامل ہو گا وہ جس طرف جا رہے گا اس میں شامل سمجھا جائے گا۔اور ایسا شخص خطرہ سے خالی نہیں ہوتا۔اس لئے ہر ایک مومن کا یہ فرض ہے کہ کوشش کر کے منعم علیہ میں داخل ہو جائے۔یعنی ایسے مقام پر پہنچ جائے کہ اس کی عقل کو ثبات حاصل ہو۔زمانہ کی رو اور جذبات کی رو اس کے ایمان میں تزلزل نہ پیدا کر سکے۔پس میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ایسا ایمان اپنے اندر پیدا کریں جو منعم علیہ والا ایمان ہے جس میں کسی قسم کا تزلزل نہ واقع ہو۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے ایمانوں کو پہاڑوں کی چٹانوں سے زیادہ مضبوط کرے اور ایسی تائید و نصرت ان کے شامل حال ہو کہ جس کی وجہ سے ان کو ایسا ایمان حاصل ہو جو ہر قسم کے تنزل سے محفوظ رہے۔ا الر حمن کے ۴ (الفضل ۱۶ نومبر ۱۹۲۶ء)