خطبات محمود (جلد 10) — Page 241
241 نہ کی جائیں۔پس تبلیغ کرنا خود نیکی کرتا ہے جو ان کی اپنی غلطیوں کو بھی دور کر سکتی ہے۔اور دوسروں کی غلطیاں بھی۔پھر تبلیغ ایک فرض بھی ہے اس لئے بھی اسے پورا کرنا چاہئے۔پس میں دوستوں کو کہتا ہوں کہ تبلیغ کے فرض کو ہرگز نہیں چھوڑنا چاہئے اور اس بات سے حوصلہ نہیں ہارنا چاہئے کہ اس کا اثر نہیں یا تبدیلی نہیں ہوتی یا ہم میں خود غلطیاں ہیں۔ایک آدمی جو صرف اس لئے تبلیغ سے رک جاتا ہے کہ اثر نہیں وہ کیا جانتا ہے کہ اس کے بعد اگر وہ تبلیغ کرتا تو ضرور اس کا اثر ظاہر ہوتا۔پس آدمی اگر آج نہیں تو کل کل نہیں تو پرسوں۔پرسوں نہیں تواترسوں ضرور اس کا اثر محسوس کرتا اور دیکھتا ہے اور ایک دن وہ دیکھے گا کہ تاریکی سے نکل کر یکدم وہ روشنی میں آگیا ہے۔خد اتعالیٰ ہمارے تمام اعمال کو درست کرے اور ہمیں اپنے فضلوں کا وارث بنائے۔اور ہمیں توفیق دے کہ اپنے نفوس کی بھی اور دوسروں کی بھی اصلاح ہو۔ہمیں تبلیغ کی اور بھی زیادہ توفیق ملے۔اور ہم نیکی کرتے رہیں۔آمین آج نماز کے بعد میں تین جنازے پڑھاؤں گا اور یہ تینوں ایسی جگہ فوت ہوئے جہاں ہماری جماعت کے لوگ یا تو نہیں تھے یا تھے تو ایک دو۔پہلا جنازہ ملک غلام نبی صاحب اسٹنٹ ڈسٹرکٹ انسپکٹر مدارس سب ڈویژن پنڈی گھیپ کے والد ملک محسن خان صاحب کا ہے دوسرا امتہ الرحمن صاحبہ عبد القدیر صاحب چھاؤنی جالندھر کی ہمشیرہ اور تیسرا والدہ رحمت اللہ سکنہ اثر پور (انبالہ) ان تینوں کا جنازہ جمعہ کی نماز کے بعد پڑھاؤں گا۔سب دوست میرے ساتھ شامل ہوں۔الفضل ۲۲ اکتوبر ۱۹۲۶)