خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 199

199 سے تنگ آکر ان کے لئے الٹی بات کرتا ہے۔یا پھر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ان کی دعاؤں میں ہی نقص ہے یا یہ کہ دعائیں تو وہ کرتے ہیں لیکن اس یقین اور ایمان کے ساتھ نہیں کرتے۔جو دعائیں مانگنے کے لئے ہونا چاہئے۔ایک ایسا شخص جو خداتعالی پر ایمان رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ خداتعالی دعائیں قبول کرتا ہے بشرطیکہ پورے شرائط اور آداب سے کی جائیں وہ نہ تو یہ مان سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی قوتیں اب زائل ہو گئی ہیں اور نہ ہی اس بات کو تسلیم کر سکتا ہے کہ وہ اب چڑ چڑے راجہ یا نواب کی طرح ہو گیا ہے کہ لوگ تو سیدھے راستہ کی درخواست کریں اور وہ ان کو چڑ چڑاہٹ سے الٹا راستہ دکھائے۔یا یہ کہ وہ لوگوں کی آئے دن کی درخواستوں سے ایسا اکتا گیا ہو کہ جیسے اکتائے ہوئے لوگ کہتے ہیں۔کیا دماغ چاٹ کھایا ہے۔وہ بھی ان کی درخواستوں پر یہ کہہ دے کیونکہ یہ بھی خدا تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے۔پس اب دو ہی باتیں باقی رہ جاتی ہیں کہ یا تو دعا میں کوئی نقص ہے یا پھر یہ کہ دعا کے ساتھ جو شروط ہوتی ہیں وہ پوری نہیں کی جاتیں۔دعا میں نقص کے یہ معنے ہوا کرتے ہیں کہ انسان کو یقین اور ایمان نہیں ہو تا کہ دعائیں قبول ہوتی ہیں یا خدا تعالی دعائیں سنتا ہے۔پھر بجز و انکسار کا دعا کے ساتھ نہ ہونا بھی دعا میں نقص پیدا کر دیتا ہے۔پھر اگر استقلال نہیں اور ایک وقت میں دعا کر کے یہ سمجھ کر اسے چھوڑ دیا جائے کہ اگر قبول ہوئی ہوتی تو ہو جاتی تو یہ بھی نقص ہے۔بعض اوقات اصرار کی ضرورت ہوتی ہے۔اور اگر ایک شخص اصرار کے ساتھ دعا نہیں کرتا تو اس کی دعا بھی نقص سے خالی نہیں ہو سکتی۔جب تک دعا کو ان نقائص سے پاک نہیں کیا جاتا اور جب تک یہ باتیں اس کے ساتھ نہ ہوں اور دعا کرتے وقت ان کا خیال نہ رکھا جائے۔دعا دعا نہیں کہلا سکتی۔جب تک یہ ایمان نہ ہو کہ خدا ہے اور وہ سنتا ہے اور جب تک یہ یقین اور امید نہ ہو کہ وہ میری بھی سنے گا۔جب تک غرور اور کبر دور نہ ہو۔کوئی دعا قبول نہیں ہوتی۔غرور اور کبر کیا ہے؟ یہی کہ انسان کے اگر خدا دعا نہیں سنتا تو نہ سنے۔یا یہ کہ اگر وہ نہیں سنتا تو ہم بھی نہیں سناتے۔لفظا " تو یہ نہیں کہا جاتا لیکن عملاً ایسا ہی کیا جاتا ہے جبکہ دعا مانگ کر چھوڑ دی جاتی ہے۔یہ طریق متکبرانہ ہے۔اس طرح جو دعا مانگی جائے وہ قبول نہیں ہوتی۔کیونکہ یہ گستاخی ہے کہ دعا مانگی تو جائے مگر متکبرانہ۔جیسے کوئی کسی کو حکم دیتا ہے کہ یہ کام کر دو یا جیسے ایک افسر اپنے ماتحت سے کوئی بات کہتا ہے۔پھر عجز و انکسار ہے۔ایک شخص دعا تو مانگتا ہے اسے یہ ایمان بھی ہے کہ خدا ہے اور سنتا بھی ہے۔اسے یہ یقین اور امید بھی ہے کہ وہ میری دعا بھی سنے گا۔اس کی دعا کے ساتھ کبر و غرور بھی