خطبات محمود (جلد 10) — Page 198
198 22 قوموں کے تنزل کے اسباب (فرموده ۲۵ جوان ۱۹۲۶ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: مسلمان اپنی نمازوں اور دعاؤں میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم مانگتے رہتے ہیں۔کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ وہ اپنے رب سے یہ درخواست نہ کرتے ہوں کہ ہمیں صراط مستقیم و سالیکن باوجود اس کے کہ وہ روزانہ بلکہ پنج و تختہ بلکہ بعض لوگ اس سے بھی زیادہ صراط مستقیم کے لئے دعا کرتے ہیں۔پھر بھی خدائی فعل یہ ثابت کر رہا ہے کہ ان کے معاملات الٹے جا رہے ہیں۔خواہش تو وہ کرتے ہیں سیدھے راستہ کی لیکن دکھایا جاتا ہے ان کو ٹیڑھا راستہ۔جتنی گریہ و زاری وہ کرتے ہیں کہ ہمیں صحیح راستہ دکھا اتنا ہی ان کا قدم جادہ اعتدال سے ادھر ادھر پڑتا ہے۔لیکن وہ قومیں جو خدا سے صراط مستقیم مانگتی نہیں اور اس پر انہیں کئی کئی دن ہی نہیں بلکہ ہفتے گذر جاتے ہیں بلکہ مہینے گزر جاتے ہیں بلکہ سال گذر جاتے ہیں بلکہ عمریں گزر جاتی ہیں کہ وہ ایک دن بھی سیدھے راستے کے لئے درخواست نہیں کرتیں بلکہ کئی ان قوموں میں ایسے ہیں جو اس بات کو ہی عبث سمجھتے ہیں اور کئی ایسے ہیں جو ایسا کرنے والوں سے ٹھٹھا کرتے اور ان کو بے وقوف سمجھتے ہیں۔لیکن باوجود اس کے ان قوموں کے قدم ترقی کی طرف جا رہے ہیں۔کامیابیاں انہیں میسر آ رہی ہیں۔فتح مندیاں ان کو حاصل ہو رہی ہیں۔وہ دعائیں بالکل ترک کر بیٹھے ہیں بلکہ دعائیں کرنے کو ہی عبث بیہودہ اور لغو سمجھتے ہیں مگر حال یہ ہے کہ وہ کامیاب ہو رہے ہیں لیکن مسلمان ہیں کہ باوجود اس کے کہ دعائیں کرتے ہیں اور بعض تو ان میں سے کثرت سے کرتے ہیں مگر پھر بھی تباہ ہو رہے ہیں۔اس سے انسان یا تو یہ گمان کر سکتا ہے کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کی قوتیں اب زائل ہو گئی ہیں کہ پہلے وہ سنتا تھا مگر اب نہیں سنتا یا پھر یہ کہ نعوذ باللہ وہ ایک چڑ چڑے راجہ یا نواب کی طرح ہو گیا ہے کہ آئے دن کی دعاؤں