خطبات محمود (جلد 10) — Page 15
15 ہمارے بعد آئیں گے انہیں ہم محروم نہیں کر دیں گے۔ان کے لئے بھی ترقیات کا میدان کھلا ہو گا۔ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ اپنے حق کا مطالبہ ہے اور اس حق کا جو کسی کے لئے چھوڑا نہیں جا سکتا۔باوجود اس کے کہ ہم آئندہ نسلوں کے خیر خواہ ہیں اور ان کے لئے دعا گو ہیں کہ خدا تعالیٰ انہیں بڑی بڑی ترقیات عطا کرے اپنا یہ حق نہیں چھوڑنا چاہتے کہ ہمارے ذریعہ دین کی خدمت ہو۔کیونکہ اس حق کا چھوڑنا موت سے بد تر ہے اور اس کی خاطر جان دیدینا آسان ہے۔پس ہمیں اس پر خوشی نہیں کہ اسلام ساری دنیا میں پھیل جائے گا۔جب کہ بعض لوگ کہتے ہیں۔جب اسلام کی ترقی کی پیشگوئیاں ہیں تو ہمیں کیا فکر ہے۔بلکہ میں کہتا ہوں اگر ہمارے ہاتھوں اسلام کی اشاعت اور ترقی نہ ہوئی تو پھر ہمیں کیا۔کیا وہ لوگ جو دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔اس بات پر خوش ہو جائیں گے کہ خدا نے لاکھوں کروڑوں انسانوں کو جنت میں داخل کر دیا اور ان پر اپنی نعمتیں نازل کی ہیں۔اگر دوزخی کے لئے یہ خیال خوشی کا باعث نہیں ہو سکتا کہ دوسرے لوگ جنت میں داخل ہو گئے تو آپ لوگ کس طرح اس بات پر خوش ہو سکتے ہیں۔کہ کسی اور قوم کے ذریعہ اسلام کو ترقی حاصل ہو جائے گی۔جس چیز کی ہمیں ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اسلام ہمارے ذریعہ بڑھے اور اس طرح بڑھے کہ آنے والے سمجھیں۔ہم نے بھی اس کے لئے کچھ کوشش اور قربانی کی ہے۔ورنہ یوں تو اسلام بڑھے گا اور بڑھ رہا ہے۔اب غیر احمدیوں کے ذریعہ بھی غیر مذاہب کے لوگ مسلمان ہوتے رہتے ہیں۔مگر یہ ترقی ایسی نہیں کہ بعد میں آنے والے لوگ اس کی وجہ سے دعائیں دیں۔اور سمجھیں کہ پہلوں نے اسلام کی اشاعت کے لئے بڑی کوشش اور سعی کی ہے۔اب تو اسلام طبعی طور پر بڑھ رہا ہے نہ کہ مسلمانوں کی کوششوں سے اور جس طرح کوئی ماں یہ احسان نہیں جتا سکتی کہ میں نے بچہ کی پیٹ میں 9 ماہ پرورش کی۔کیونکہ یہ طبعی بات تھے اور اس کے لئے ممکن ہی نہ تھا کہ پرورش نہ کرتی۔اسی طرح اسلام کی موجودہ ترقی بھی کسی کی زیر بار احسان نہیں ہے۔پس بعض ترقیاں طبعی ہوتی ہیں۔ان کو قربانی نہیں کہہ سکتے ان سے بالا ترقیاں ہوتی ہیں جو خاص قربانی اور ایثار کا نتیجہ ہوتی ہیں اور جب تک ہم اس قسم کی قربانیاں نہ کریں آئندہ نسلوں کی دعاؤں کے مستحق نہیں ہو سکتے اور جب تک ہم اس طرح سلسلہ کی اشاعت نہ کریں یہ نہیں کہ سکتے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔پس دوستوں کو اس طرف خاص توجہ کرنی چاہئے۔کہ موجودہ سال ہم اس مقصد کو اپنے سامنے رکھیں اور ممکن ہے ایک سال اسے سامنے رکھنے کی کوشش سے یہ ہمیشہ ہمیش کے لئے ہمارے سامنے رہے۔اس کے بعد میں دعا کرتا ہوں کہ الہی ہماری کمزوری ہماری کم علمی پر نظر کرتے ہوئے آپ ہی