خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 184

184 وہ ثبوت میں اپنے اخلاق اور معاملات کی صفائی اور گذشتہ واقعات کی عمدگی کو پیش نہ کر سکے۔ایسا ہی اگر کسی کے سپرد کوئی کام ہوا ہے اور وہ کام نہ کرے اور بیٹھ جائے اور اگر اس نے پہلے بھی موقعہ ملنے پر ایسا کیا تو وہ ایک نہیں سو قسمیں کھائے کہ یہ ہو گیا تھا یہ درپیش آگیا تھا یہ رکاوٹ پڑگئی تھی تو کوئی شخص اس کے متعلق یہ نہیں کہے گا کہ اس کی قسمیں درست ہیں اور وہ فی الواقع ایسی مجبوریوں کے باعث ہی اس کام کے کرنے سے رکا رہا۔ایسا شخص اگر اگلے سال تک بھی برابر قسمیں کھاتا چلا جائے تو بھی کسی کو یقین نہ آئے گا۔لیکن اگر اس میں یہ بات نہیں بلکہ برخلاف اس کے اس میں کام کرنے کی عادت ہے اور پھر ایسا واقعہ پیش آیا ہے تو پھر قسم تو در کنار اس کے زبان کے کہدینے سے ہی لوگ اس بات پر یقین کر لیں گے۔تو اخلاق ایک ایسا شعبہ اعمال کا ہے کہ لوگوں کے ایمانوں کے متعلق اور لوگوں کے خدا کے ساتھ جو تعلق ہیں۔ان کے متعلق اگر کوئی قسم کھا کر کچھ کہے تو اس پر کوئی شبہ نہیں کر سکتا۔اور چونکہ یہ مخفی ہوتے ہیں اور یہ مخفی شے اخلاق اور معاملات وغیرہ سے ظاہر ہوتی ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح اول نے فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ایک شخص کے متعلق سنا کہ وہ ہر بات کے ساتھ گالی دیتے ہیں۔میں نے انہیں کہا کہ آپ گالی نہ دیا کریں۔اسکے جواب میں اس نے ایک نہایت گندی گالی نکال کر کہا کہ کون کہتا ہے کہ میں گالی دیتا ہوں اب اس کی عادت ہو چکی تھی وہ انکار کر رہا ہے مگر انکار کے ساتھ بھی گالی دے دی اس پر حضرت خلفیہ امسیح اول فرماتے ہیں میں نے اسے کہا جس نے مجھے کہا ہے اس نے غلط کہا ہے کہ آپ گالی دیتے ہیں۔اب یہ اس کی عادت ثانی ہو چکی تھی۔اب بغیر گالی دیئے بات کرنے کی اس سے توقع ہی نہیں۔قوت ضبط اس میں نہ رہی تھی وہ اس بات کو محسوس ہی نہیں کر سکتا تھا کہ میں گالی نکال رہا ہوں۔یہاں تک کہ ارادہ بھی اس کا مر چکا تھا۔یہ تو صوفیاء کا رنگ تھا جو حضرت خلیفہ اول نے لیا مگر اس کے سوا دوسرے لوگ ہیں ان کا رنگ کچھ اور ہی ہے غور کرنا چاہیئے اب اگر کوئی دوسرا آدمی اس کو دیکھے تو کیا کہے یہی کہ گالی بھی دیتا ہے اور جھوٹ بھی بولتا ہے اور یہ گالی دینے کے سوا جھوٹا بھی ہے۔غرض اخلاق کا معاملہ بڑا نازک ہے۔کوئی شخص اخلاق کو چھپا نہیں سکتا۔یہی معاملات کا حال ہے۔اگر اخلاق اچھے ہوں اگر معاملات درست ہوں تو غلطی بھی ہو تو سمجھ لیتے ہیں کہ اتفاقی طور پر ہو گئی اور اگر یہ درست نہیں اور وہ عذر پر عذر کرے تو ہر گز یہ معنی نہیں ہوں گے کہ یہ اتفاقی طور پر ہوا ہے۔پس جو جانتا ہے کہ میں روپیہ لے کر دے نہیں سکتا اور پھر تاریخ بھی مقرر کر دیتا ہے کہ