خطبات محمود (جلد 10) — Page 139
139 کیا رہ جاتا ہے۔اسی طرح کوئی قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی جب تک وہ ایسی ایسی قربانیاں نہ کرے کہ گویا وہ آگ میں پڑ کر بالکل راکھ ہو گئی ہے۔اور اس کا کچھ باقی نہیں رہا۔جب کوئی قوم اس حالت کو پہنچ جاتی ہے تب وہ اٹھتی اور بلند ہوتی ہے۔اور دنیا میں زندہ قوم کہلاتی ہے۔پس اس شخص کے سوال کا کہ قومی ترقی کا کیا گر ہے۔یہی جواب ہے کہ قومی ترقی کا ایک ہی گر ہے۔اور وہ یہی ہے کہ تم فنا ہو جاؤ۔جو قوم بھی دنیا میں زندہ ہوتی ہے۔اسی طرح ہوتی ہے کہ پہلے اس نے اپنے آپ کو فنا کر دیا۔قومیں تو الگ رہیں۔انفرادی ترقی بھی بغیر قربانی کے حاصل نہیں ہو سکتی۔دیکھو ایک باپ جو ڈیڑھ سو را سو روپیہ تنخواہ پاتا ہے۔۔۔وہ اپنے چار پانچ بچوں کو تعلیم دلاتا ہے۔اور اپنی تمام کمائی بچوں کی تعلیم پر خرچ کر دیتا ہے۔وہ کنگال ہوتا ہوا معلوم دیتا ہے۔اور اسکی تمام کمائی بظاہر برباد ہوتی نظر آتی ہے۔لیکن کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ تباہ ہو رہا ہے۔نہیں بلکہ وہ ترقی کر رہا ہے۔کیونکہ پہلے اس گھرانہ میں اگر ایک شخص سو ڈیڑھ سو روپیہ کمانے والا تھا تو اب اس گھرانہ میں چار پانچ آدمی کمانے والے ہو جائیں گے۔لیکن اگر وہ باپ پہلے اپنی جائداد اور اپنا روپیہ بچوں کی تعلیم میں فنا نہ کرتا تو اس کو یہ ترقی کیسے مل سکتی تھی۔یہ ترقی اس جائداد اور روپیہ کے قربان کرنے کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے۔اسی طرح جو سلسلے اللہ تعالی کی طرف سے قائم ہوتے ہیں ان کے اخراجات بھی ایسے ہی کاموں پر ہوتے ہیں جن کے نتیجہ میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔مثلاً اشاعت کا ہی کام لے لو۔بظاہر اس پر روپیہ خرچ کرنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ روپیہ تباہ ہو رہا ہے۔لیکن در حقیقت اس روپیہ سے اور کئی ہزار آدمی تیار ہو رہے ہوتے ہیں۔جس سے جماعت کی طاقت علیحدہ بڑھتی ہے اور دشمن کی طاقت علیحدہ گھٹتی ہے۔کیونکہ جتنے آدمی جماعت میں نئے داخل ہو جائیں گے۔اتنے ہی دشمن کے کم ہو جائیں گے۔اس طرح جماعت کی مالی طاقت بڑھ جاتی ہے۔اسی طرح تعلیم و تربیت پر روپیہ خرچ ہوتا ہے۔اس کا فائدہ بھی ہم کو ہی پہنچتا ہے۔خدا تعالیٰ کو تو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔عجیب بات ہے۔ہم نام تو یہ رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کیا۔لیکن در حقیقت سب کچھ ہمارے ہی فائدہ کے لئے خرچ ہو رہا ہوتا ہے۔ایک پیسہ بھی تو ہمارا خدا تعالیٰ کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتا بلکہ وہ ہماری ہی بہتری اور ترقی کے لئے خرچ ہوتا ہے۔اور اس کا فائدہ ہماری طرف ہی لوٹتا ہے۔ہماری مثال تو اس شخص کی سی ہے۔جو کسی سے روپیہ لے اور اپنے بچوں پر خرچ کر ڈالے اور پھر نام دوسرے کا کر دے۔در حقیقت وہ قوم بھی دنیا میں کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔جو غرباء کی خبر گیری نہ کرتی ہو۔اور ان کی خدمت کے لئے کچھ نہ کرتی ہو۔ہمیشہ وہی قوم زندہ رہ سکتی ہے۔جو