خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 134

134 قربانیاں کرتی ہو۔ہمیشہ وہی قومیں دنیا میں برباد ہوتی رہی ہیں جن کا یہ خیال ہوا کہ ہم قربانی کرنے سے تباہ ہو جائیں گے۔دیکھو مسلمان جو ابتدائے اسلام میں قربانیاں کرتے تھے۔اور جو قربانیاں صحابہ کرام نے حضرت نبی کریم اللہ اور آپ کے خلفاء کے زمانہ میں کیں وہ بنو عباس کے زمانہ میں مسلمانوں سے ظہور پذیر نہیں ہوئیں۔جس کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام کو جو شان و شوکت صحابہ کے زمانہ میں حاصل تھی۔وہ بنو عباس کے زمانہ میں باوجود ہر قسم کی طاقت کے حاصل نہ تھی۔کیونکہ صحابہ کے وقت ان کی قربانیوں کے نتیجہ میں مسلمان ترقی کی طرف قدم اٹھا رہے تھے۔مگر بنو عباس کے وقت چونکہ قربانیاں کرنے والے نہ رہے۔اس لئے مسلمانوں کا قدم تنزل کی طرف جا رہا تھا۔دیکھو وہ مسلمان جنہوں نے اپنے تمام کے تمام اموال خدا تعالٰی کی راہ میں خرچ کر ڈالے۔اور اپنی جانیں کلی طور پر اسلام کی خدمت میں وقف کر دیں اور اپنے وطن اسلام کے لئے بکلی چھوڑ دیئے۔کیا ان کی قربانیوں کا یہ نتیجہ ہوا کہ وہ تباہ اور برباد ہو گئے یا یہ کہ وہ ساری دنیا پر غالب آگئے اور تمام دنیا پر حکمران ہو گئے۔لیکن اس کے بعد جب بنو عباس کے زمانہ میں بڑی شان و شوکت مسلمانوں کو حاصل تھی۔دنیا کی ترقی و تنزل کی باگیں ان کے ہاتھ میں تھیں۔اس زمانہ میں اسلام کو وہ ترقی اور عزت حاصل نہیں تھی جو صحابہ کے زمانہ میں حاصل تھی۔کیونکہ بے شک بنو عباس کے زمانہ میں مسلمانوں کے پاس سب کچھ تھا۔لیکن اگر کوئی چیز نہیں تھی۔تو قربانی تھی۔اور صحابہ کے پاس بے شک کچھ بھی نہیں تھا۔لیکن ان کے پاس وہ چیز تھی۔جو بنو عباس کے زمانہ میں نہیں تھی۔اور وہ قربانی تھی۔جس کے باعث وہ تمام دنیا پر حکمران اور فاتح ہو گئے۔انہوں نے بعد کے مسلمانوں کی طرح اپنے اموال کو گھروں میں سمیٹ کر نہیں رکھا ہوا تھا۔اور نہ انہیں اپنی جانوں کی پروا تھی۔بلکہ سب کچھ خدا کی راہ میں اور اسلام کی ترقی کے لئے قربان کر دیا تھا۔اب بظاہر تو یہ چاہئے تھا کہ اسلام بنو عباس کے زمانہ میں ترقی کرتا لیکن وہ اس کے خلاف صحابہ کے زمانہ میں معزز ہوا۔پس یہ خیال کہ قربانی کے نتیجہ میں ہم ذلیل ہوں گے۔بالکل غلط خیال ہے جو یا تو خود پسندی اور حب نفس کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔یا اس کی وجہ جنون ہو سکتی ہے۔کیونکہ یہ خیال اس وقت ہی پیدا ہو سکتا ہے۔جب انسان یہ خیال کرے کہ جو کچھ ہوں میں ہی ہوں۔اور میرے ساتھ کسی اور ہستی کا تعلق نہیں۔لیکن جب اسے یہ خیال ہو کہ میں ایک عمارت کی ایک اینٹ ہوں۔سلسلہ کی ایک کڑی ہوں۔اور باغ کا ایک درخت ہوں۔تو پھر یہ خیال کبھی نہیں پیدا ہو سکتا۔