خطبات محمود (جلد 10) — Page 100
100 خطرہ کیونکہ جب کوئی حد سے بڑھ جاتا ہے۔تو پھر اس کا جواب دینے کی ضرورت آپڑتی ہے۔جب یہ ہو کہ دوسروں کو ٹھوکر لگے گی۔اور لوگوں کے ایمان میں نقص واقع ہو گا۔تو اس وقت مجبورا جواب دینا پڑتا ہے۔اب اگر انہوں نے اپنے رویہ کو نہ بدلا۔اور یہی طرز جاری رکھی جو اب اختیار کر رکھی ہے۔تو پھر میں بھی اپنے دوستوں کو ان کے مقابل قلم اٹھانے کی اجازت دے دوں گا اور اس کی ذمہ داری ان معترضین کی گردنوں پر ہوگی۔کیونکہ ان جوابوں کے موجب وہی لوگ ہوں گے۔بالآخر میں خود بھی دعا کرتا ہوں۔اور اپنے دوستوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ان لوگوں کے لئے دعا کریں۔میں تو ہمیشہ ان کی خیر خواہی کرتا ہوں۔ان میں سے کوئی مرجاتا ہے تو مجھے اس پر رحم ہی آتا ہے۔کیونکہ معلوم نہیں۔مخالفت کی وجہ سے اسے کیا نقصان پہنچے گا یا اس کے درجات میں ترقی نہیں ہو گی۔دیکھو آخر یہ لوگ انہی میں سے تھے۔جو حضرت صاحب کی خدمت میں بیٹھا کرتے تھے۔لیکن ایک ٹھوکر سے کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔بات یہ ہے۔شیشہ کے برتن کی حفاظت زیادہ آسان ہے۔بہ نسبت ایمان کے۔پس تم لوگ ہمیشہ اپنے تقویٰ اور ایمان کی حفاظت کرو اور دوسروں کے لئے دعا کرتے رہو۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ایمانوں کو سلامت رکھے۔اور ہر ایک قسم کی ٹھوکر سے بچائے۔اس کی طرف ہماری نظر ہو اور اسی کی طرف ہماری ایسی توجہ ہو کہ اسے کوئی دشمن نہ پھیر سکے۔آمین الفضل ۲۳ مارچ ۱۹۲۶ء)