خطبات محمود (جلد 10) — Page 84
84 کہ خدا تعالیٰ نے ایاک نعبد کے آگے ایاک نستعین فرمایا۔بعض لوگ اس پر حیران ہوتے ہیں کہ عبادت کو پہلے رکھا گیا۔اور استعانت کو بعد میں۔حالانکہ استعانت پہلے طلب کرنی چاہئے تھی۔تاکہ عبادت کرنے میں سہولت اور آسانی میسر آئے۔مگر حق یہی ہے۔جو ترتیب خدا تعالیٰ نے رکھی ہے وہی درست ہے۔کیونکہ اعمال ظاہری پہلے ہوتے ہیں۔اور بعد میں وہ حالت ہوتی ہے کہ اخلاص کامل ہو۔قطع نظر اس سے کہ خدا تعالیٰ کا قانون جاری ہے۔اور ہم اسے تسلیم کرتے ہیں۔مگر خدا تعالیٰ نے انسان کو جو قدرت دی ہے۔اسے مد نظر رکھتے ہوئے جانتے ہیں کہ انسان اپنے ارادہ سے کام کرتا اور نفس کو کام کرنے کے لئے مجبور کر سکتا ہے۔مثلا" جس قدر لوگ اس وقت یہاں بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس کے لئے یہاں سے اٹھ کر مسجد مبارک میں جانا ناممکن ہے۔اگر اس کے ہاتھ پاؤں ثابت ہیں۔کیونکہ ہم جانتے ہیں۔دل خواہ کسی کام کو کتنا ہی نہ چاہے۔خدا تعالیٰ نے انسان میں طاقت رکھی ہے کہ اگر وہ چاہے تو اپنے نفس کو وہ بات ماننے پر مجبور کر سکتا ہے۔ایک ایسا شخص ہے جس کا دل نہیں چاہتا کہ نماز پڑھے۔مگر وہ اپنے آپ کو مجبور کر سکتا ہے کہ کھڑا ہو۔رکوع کرے۔سجدہ کرے۔ہاں جس بات پر انسان کا کوئی اختیار نہیں ہے وہ دل کی حالت ہے۔مثلا ایک شخص کی ایک سے زیادہ بیویاں ہیں۔وہ اپنے آپ کو مجبور کر سکتا ہے کہ سب کو مساوی باری دے۔سب سے ایک جیسا سلوک کرے۔لیکن اگر اس کے دل میں سب سے یکساں محبت نہیں۔تو وہ اپنے دل کو مجبور نہیں کر سکتا کہ سب سے یکساں محبت کرے اور اس وقت تک ایسا نہیں کر سکتا جب تک " ایسے حالات نہ پیدا ہو جائیں کہ اس کے دل کی حالت بدل جائے۔یا مثلا ایک شخص ہے وہ بعض طبائع کو پسند کرتا اور ان کے ساتھ مل کر کام کر سکتا ہے۔لیکن ایسا افسر آ جاتا ہے۔جس سے اس کی طبیعت نہیں ملتی تو اس کے دل میں اس کی ہر بات کھٹکتی رہے گی۔گو ظاہری طور پر اس کی اطاعت کر سکتا ہے۔تو خدا تعالیٰ نے انسان کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ ظاہری کاموں میں اپنے آپ کو مجبور کر سکتا ہے۔اب اگر ایاک نعبد میں صرف ظاہری اعمال ہوتے۔تو اس کے لئے ایاک نستعین کی ضرورت نہ تھی۔مگر یہاں قلبی اطاعت مراد ہے۔کیونکہ اصل عبادت قلب ہی کی ہے۔اس لئے انسان کہتا ہے۔الہی قلب کا بدلنا میرے اختیار میں نہیں ہے۔اسے تو ہی بدل سکتا ہے۔کیونکہ قلب تیرے ہی اختیار میں ہے میرے اختیار میں نہیں ہے۔میں اپنے آپ کو عبادت کے لئے کھڑا کر سکتا۔رکوع بھی کر سکتا ہوں۔سجدہ بھی کر سکتا ہوں۔مگر دل کو نہیں عبادت میں لگا سکتا۔اسے تو ہی بدل دے۔پس ایاک نستعین نے بتا دیا کہ یہ قلبی عبادت ہے۔جہاں خدا کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔