خطبات محمود (جلد 10) — Page 77
مخصر 77 اتنے نقل ہوتے ہیں کہ اپنی انانیت کو ہی مٹا دیتے ہیں اور یہ کوئی خوبی کی بات نہیں۔کیونکہ اگر کوئی قوم میں داخل ہوتے وقت اپنے وجود کو مٹا ڈالے۔تو وہ صرف نقال رہ جاتا ہے۔اور صرف نقال رہ جانا کوئی خوبی نہیں ہے۔اس کی مثال آج کل کے مسلمان ہیں کہ در حقیقت اسلام کی کوئی بات ان میں نہیں لیکن ان کے باپ دادے چونکہ مسلمان تھے۔اور ان میں اسلام کی خوبیاں تھیں۔اس لئے یہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔یہ اگر کچھ ہیں تو صرف باپ دادوں کے اظلال اور ایسی تصویریں ہیں جو اپنی ذات میں کوئی شے نہیں کیونکہ یہ اس لئے ظہور میں آیا کہ انانیت کے ساتھ انہوں نے دوسری خوبیوں کو بھی مٹا دیا۔پس سب سے پہلی بات جو انسان کے لئے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ انانیت کو قائم رکھے اور ایسے طریق پر قائم رہے کہ جہاریت کا رنگ نہ اختیار کرے۔پس مومن کو چاہئے کہ وہ ان تینوں صفات کو قائم رکھے۔یعنی اس میں انانیت بھی ہو۔اچھے برے میں تمیز بھی ہو اور اندھا دھند نقل بھی نہ کی جائے۔بلکہ اپنے آپ کو ایسے رنگ میں قوم کے ساتھ ملائے کہ قوم کے ساتھ ملا بھی رہے اور اس کا اپنا وجود بھی الگ نظر آئے۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بالکل ست بچنئے بن جاتے ہیں۔خواہ کچھ ہی بات ہو۔وہ سچ ہے“، ”سچ ہے " کہتے اور اپنی رائے اور اپنے ارادے کو دبا کر ضائع کر دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک راجہ نے ایک دفعہ بینگن کھائے تو اسے بہت ہی مزہ آیا۔وہ جب دربار میں آیا تو کہنے لگا۔بینگن کیا ہی اچھی چیز ہے۔اس کا ایک مصاحب تھا اس نے بھی بینگن کی تعریف کرنی شروع کر دی کہ اور تو اور اس کی شکل ہی دیکھئے کیسی عمدہ ہے۔سرتو ایسا ہے جیسے کسی پیر نے سبز پگڑی باندھ رکھی ہو۔نیلگوں لباس تو آسمان کی رنگت کو مات کر رہا ہے۔پودے کے ساتھ لٹکا ہوا ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی شہزادہ جھولا جھول رہا ہے۔اور طبی طور پر جتنی اس کی خوبیاں تھیں ساری کی ساری گن ڈالیں۔یہ باتیں سن کر راجہ کو اور شوق پیدا ہوا۔اور اس نے کچھ دن بینگن کھائے۔بینگن چونکہ گرم ہوتے ہیں اس لئے انہوں نے ”حدت" پیدا کی۔تو راجہ نے ایک دن کہا بینگن بہت بری شے ہے۔اس پر اسی مصاحب نے اس کی برائیاں بیان کرنی شروع کر دیں۔کہنے لگا شکل تو دیکھئے۔کلا منہ نیلے پاؤں ہیں اس سے بھی زیادہ اور کیا اس کی برائی ہو سکتی ہے کہ الٹا لٹکا ہوا ہے۔جیسے کسی نے پھانسی پر لٹکایا ہو۔چونکہ ہر شے کی کچھ خوبیاں اور کچھ برائیاں ہوتی ہیں۔اس موقعہ پر اس مصاحب نے اس کی تمام وہ برائیاں جو طبی طور پر تھیں۔بیان کیں۔پاس بیٹھنے والوں میں سے کسی نے کہا یہ کیا؟ اس نے جواب دیا۔میں راجہ کا نوکر ہوں نہ