خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 58

58 اس کی نادانی ہوگی۔کیونکہ اس ملک کی عام حالت امیرانہ ہے اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ غریب ملک ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت اس عام قاعدہ سے خالی نہیں ہو سکتی۔اور نہ ہی حضرت موسی یا حضرت عیسی کی جماعتیں اس سے خالی تھیں۔کمزور بھی ان میں پائے جاتے تھے اور ایسے بھی ان میں پائے جاتے تھے جو غلطیاں کرتے تھے۔لیکن ان کو دیکھ کر یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ ساری جماعت ہی ایسی ہے۔ایسے لوگ تو بیمار ہوتے ہیں اور طبیب کا یہ فرض ہوتا ہے کہ ان کا علاج کرے۔اگر بالکل اچھے ہو گئے تو ہو گئے۔ورنہ ان کی بیماری بڑھنے سے تو رک جائے گی۔پس نبیوں کا کام یہ ہے کہ جو بھی ان کی جماعت میں آئے۔اس کا علاج کریں اور یہ ظاہر ہے کہ ان آنے والوں میں سے ہر ایک علیحدہ علیحدہ امراض میں مبتلا ہوتا ہے۔یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کا ہے۔اس میں کثرت سے لوگ آئے اور اس کثرت سے آئے کہ دشمن بھی حیران ہیں اور ان آنے والوں میں سے ہر ایک کسی نہ کسی مرض میں مبتلا تھا۔ان میں سے اگر کسی کا کسی کے ساتھ جھگڑا پیدا ہو جائے۔تو وہ جھٹ اس معالمہ کی بناء پر کہہ دے گا کہ ساری جماعت ہی ایسی ہے۔ایسے لوگ قوم کی قوم کو ہی برا کہنا شروع کر دیتے ہیں مگر یہ ان کی غلطی ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جماعت ایسی نہیں۔جماعت کی عام رو سے تو دشمن بھی کہتے ہیں کہ یہ تقویٰ اور نیکی میں سب جماعتوں سے بڑھی ہوئی ہے۔ہم ہر روز مقدمے سنتے ہیں۔بعض دفعہ دیکھتے ہیں کہ ایک شخص نا واجب طور پر غلطی کر رہا ہوتا ہے لیکن وہ جانتا ہے کہ میں مظلوم ہوں۔اس کی آنکھیں نم دار ہوتی ہیں۔اس کا چہرہ زرد ہوتا ہے۔اس کا جسم کانپ رہا ہوتا ہے وہ حیران ہو کر لوگوں کا منہ دیکھتا ہے کہ وہ کیوں اس کو مظلوم نہیں سمجھتے۔پھر بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ایک شخص ظالم کو مظلوم سمجھ لیتا ہے تو ایسے لوگ بعض وقت ایک کے قصور سے ساری جماعت کو قصوروار سمجھنے لگتے ہیں۔کمزور تو کمزور بعض دفعہ نیک آدمی بھی غلطی کر بیٹھتا ہے لیکن ایک شخص اپنے ذاتی غصہ کی وجہ سے سمجھتا ہے ساری جماعت ہی ایسی ہے۔پھر اس قسم کے لوگ جہاں بیٹھتے ہیں یہی کہتے ہیں۔اجی جماعت خراب ہو گئی۔لیکن جب ان سے یہ پوچھا جائے کہ جماعت سے آپ کی مراد کیا ہے تو چار پانچ آدمی نکل آتے ہیں اور وہ بھی ایسے کہ جن کے ساتھ ان کا کوئی معالمہ ہوتا ہے۔ان کی مثال بادشاہ کے نائی کی طرح ہے کہتے ہیں کہ کسی بادشاہ کا ایک نائی تھا بادشاہ نے خوش ہو