خطبات محمود (جلد 10) — Page 52
52 6 انبیاء کی جماعت میں مختلف استعداد کے لوگ (فرموده ۵ فروری ۱۹۲۶ء) تشهد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : دنیا میں کسی جنس کی بھی تمام چیزیں یکساں نہیں ہوتیں۔کوئی چیز اپنی جنس کی خوبی نمایاں طور پر دکھانے والی ہوتی ہے اور کوئی کم طور پر دکھانے والی۔کوئی اس جنس کی تمام خوبیاں اور تمام صفات اپنے اندر رکھتی ہے کوئی بہت کم اور کوئی درمیانہ انداز میں۔حتی کہ تمام کے تمام انسان بھی یکساں نہیں ہوتے۔نہ ہی سارے انسان فرشتہ ہوتے ہیں اور نہ ہی شیطان کچھ فرشتہ خصلت ہوتے ہیں کچھ شیطان صفت اور کچھ درمیانی حالت والے ہوتے ہیں۔اسی طرح کوئی عمدہ سے عمدہ پھل لے لیں اور اگر یہ چاہیں کہ سارے کے سارے یکساں ہوں تو یہ مشکل ہے۔سارے کے سارے پھل کسی جنس کے بھی برابر نہیں ہو سکتے ان میں سے کوئی تو اپنی تمام خوبیاں اپنے اندر رکھتے ہیں اور کوئی کم۔آم ہی کو لے لو بعض ان میں سے نہایت اعلیٰ درجے کے ہوتے ہیں اور بعض ادنی درجے کے پھر ایسے بھی ہوتے ہیں جو درمیانی ہوتے ہیں۔پھر جو ادنی درجے کے ہوتے ہیں ان میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جو اتنے خراب تو نہیں ہوتے کہ انسان کھا ہی نہ سکے لیکن اتنے اچھے بھی نہیں ہوتے کہ انسان ان کو ہی پسند کرے۔پس کسی چیز کا فائدہ اگر دیکھنا ہو۔تو اس میں سے جو اعلیٰ ہو اس سے دیکھا جا سکتا ہے۔ایک دوائی کے متعلق ڈاکٹر بحث کرتے ہیں مگر وہ اس کے متعلق بحث کرتے ہوئے یہ نہیں کہتے کہ فلاں فلاں کو یہ دوائی دی مگر اس نے فائدہ نہ دیا۔بلکہ وہ اس پر بحث کرتے ہیں کہ فلاں فلاں کو دی گئی تو اس نے یہ یہ عظیم الشان فائدے دکھائے اور جب کسی دوائی سے فائدہ نہیں ہوتا تو وہ کہتے ہیں دوائی نے اثر نہ کیا۔نہ یہ کہ دوائی میں اثر ہی نہیں۔پس اگر اس دوائی سے مرض بڑھ جاتی ہے تو کہتے