خطبات محمود (جلد 10) — Page 301
301 کے تزکیہ کے لئے مصائب و مشکلات کا آنا ضروری ہے۔بعض وقت نفس مصائب اور مشکلات کے ذریعہ سے ہی پاک ہوتا ہے۔مثلاً کہیں مال کا نقصان ہو جاتا ہے۔کبھی عزت کا نقصان ہوتا ہے۔کبھی اولاد مرجاتی ہے۔اب ہر شخص بیٹے کے لئے دعا مانگتا ہے کہ زندہ رہے۔اگر ہر شخص کی دعا اللہ تعالیٰ اسی طرح قبول کرے کہ اس کا بیٹا ہمیشہ زندہ رہے تو اس طرح تو کسی کا بیٹا بھی کبھی بھی نہیں مرے گا۔اور دنیا سے اس کا قانون موت جو مقرر ہے اٹھ جائے گا۔تو ایک تو اس کا قانون ٹوٹتا ہے۔دوسرے انسان کے نفس کا تزکیہ نہیں ہوتا۔تو مشکلات بھی کئی حکمتوں کے ماتحت آتی ہے۔جب کوئی مصیبت اس کی غفلت کی وجہ سے آتی ہے تو اس کو اللہ تعالٰی اس کی دعا سے ٹلا دیتا ہے۔لیکن وہ مصیبت جو خدا کی طرف سے اس کی حکمت کے ماتحت آتی ہے۔اس کو اللہ تعالیٰ نہیں ٹلایا کرتا اور اگر ٹلاتا ہے تو اس وقت جب کہ اس کے ٹلانے کا موقعہ آتا ہے یا اس کا ٹلانا اس کے تقویٰ کے لئے زیادہ مفید ہو۔دو صورتوں میں ابتلا آیا کرتے ہیں یا تو دل کا گند ظاہر کرنے کے لئے اور اس کی پاکیزگی کے لئے۔یا اس کی پاکیزگی کو ظاہر کرنے اور اس کے لئے اپنی غیرت کا اظہار کرنے کے لئے۔اور یہ صورت خاص لوگوں کے لئے ہے۔مصیبت کے آنے کی ان دو اغراض میں سے ایک غرض ضرور ہوتی ہے۔کیونکہ مصیبت میں جب انسان گھر جاتا ہے۔تو اس کو پتہ لگ جاتا ہے کہ میرے اندر کس قدر کمزوری ہے یا کیا عیب ہے اور یا اسے اور بھی نیکی اور تقویٰ میں ترقی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ جھکتا ہے۔پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر دعا کا قبول ہونا ضروری نہیں اور نہ قبول ہو سکتی ہے۔اب مثلاً دو شخص مقدمہ لڑ رہے ہیں اور بسا اوقات دونوں فریق اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں وہ دونوں ہی دعا کریں کہ اسے کامیابی حاصل ہو تو اب بتاؤ اللہ تعالیٰ کس کی بنے گا۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ دونوں بچے ہوں ایک بہرحال حق پر ہو گا ایک ناحق پر۔اب اللہ تعالیٰ تو اس کی دعا سنے گا جس کا حق زیادہ ہے اور دوسرے کی دعا کا قبول نہ کرنا ہی اس کے حق میں اچھا ہے۔پھر دعا کے بغیر روحانیت بھی حاصل نہیں ہو سکتی اور نہ مذہب کی غرض پوری ہو سکتی ہے۔دعا سوال بھی ہے اور عبادت بھی اگر قبول ہو جائے تو دعا ہے اگر قبول نہ ہو تو عبادت میں شمار ہو گی۔اور چونکہ ہم ہر چیز کے محتاج ہیں اس لئے دعا کا قبول ہونا بھی چاہتے ہیں۔لیکن حق یہی ہے کہ دعا قبول نہ ہونے والی قبول ہونے والی کی نسبت بہتر ہے۔کیونکہ وہ عبادت میں شمار ہوگی اور خدا کی رضاء کی موجب ہو گی جو ہماری پیدائش کی اصل غرض ہے۔اور عبادت بہرحال ہماری مسئول