خطبات محمود (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 326

خطبات محمود (جلد 10) — Page 25

25 کرتے اور پھر بھی یہی سمجھتے کہ ابھی ہمارے ہی ذمہ کچھ نکلتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف ہمارا کچھ نہیں نکلتا۔خدا تعالیٰ سے تو ہم نے جنت لینی ہے مگر ہمارے پاس ابھی اپنی جان مال اور دوسری چیزیں باقی ہیں۔یہ وجہ تھی جس کے باعث ان کے دل میں بڑی بڑی قربانیاں کر کے کبھی شکایت پیدا نہ ہوتی بلکہ مہیں تمنا رہتی کہ ابھی کچھ نہیں کیا۔کچھ اور کیا جائے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ کا ہی حق ہمارے ذمہ ہے ہمارا خدا پر نہیں ہے کیونکہ ہم نے ابھی تک بیعت کا مفہوم پورا نہیں کیا۔جو اسی طرح پورا ہو سکتا ہے کہ اپنا سب کچھ خدا تعالیٰ کو دے دیں۔یہ وجہ تھی کہ ان کے دل یقین اور ایمان سے پر تھے اور وہ جانتے تھے کہ بغیر قربانی کے ترقی نہیں ہو سکتی اور خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنا اپنے اوپر احسان کرتا ہے نہ کہ خدا تعالٰی پر۔اس وجہ سے ہر قربانی جو وہ کرتے انہیں حقیر نظر آتی۔لیکن ویسی ہی قربانی کا مطالبہ جیسی کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ نے خود کی کئی لوگوں کے لئے ٹھوکر کا باعث بن گیا اور وہ مرتد ہو گئے۔اسی طرح اب بھی کئی ایسے لوگ ہیں جو بغیر اس کے کہ اتنی قربانی کریں جتنی جماعت کا دوسرا حصہ کر رہا ہے ٹھوکر کھا رہے ہیں۔ان کا سارا مال دینا تو الگ رہا ایک آنہ فی روپیہ دینا یا چندہ خاص دینا جو کبھی لیا جاتا ہے اس پر شور مچا رہے ہیں۔حالانکہ جماعت کا ہے فیصدی حصہ ایسا ہے جو نظام کے ماتحت ہے اور چندہ اسی طریق سے ادا کرتا ہے اور باقی جو انتظام کے ماتحت نہیں وہ زیر الزام نہیں کیونکہ اس تک ہم پہنچ نہیں سکتے۔ایسی حالت میں وہ لوگ جو شور مچاتے ہیں غور کریں۔وہ بیعت کا مفہوم کیا سمجھے ہوئے ہیں۔ذمہ دار کارکنوں کا فرض ہے کہ بیعت کے حقیقی مفہوم کو اپنے ذہن نشین بھی کریں اور جو لوگ کمزور ہیں ان کے ذہن نشین بھی کرائیں۔پھر میں یہاں کے کارکنوں سے کہتا ہوں سلسلہ کا کام کرنا ہر فرد کے ذمہ ہے ہماری مشکلات اور روکیں جو ہیں وہ اگر کسی وقت اس حد تک پہنچ جائیں کہ باہر کے لوگ ہماری کچھ مدد نہ کر سکیں تو ہمیں یہ خیال ہونا چاہئے کہ یہ کام ہمارے ہیں۔دیکھو رسول کریم ان کے وقت صحابہ نے بغیر تنخواہ اور اجرت کے کام کئے ہیں۔اب ہماری جماعت کے کارکنوں کو بھی اس بات کے لئے آمادہ اور تیار رہنا چاہئے کہ اگر خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے بغیر کسی بھائی کی مدد کے کام کرنا پڑے تو کیا جائے۔وہ جو خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کرتے ہوئے فاقہ سے مرتا ہے اس سے بہتر کس کی موت ہو سکتی ہے۔شہادت تلوار کی موت کو ہی نہیں کہتے اس سے بہت بڑی شہادت وہ ہے جو متواتر تکلیف اٹھا کر میسر آئے۔کون کہہ سکتا ہے کہ احد کے شہداء سے بڑھ کر رسول کریم ﷺ کی شہادت کا مرتبہ نہ تھا۔احد کے شہداء کو تو ایک شہادت نصیب ہوئی مگر خدا تعالیٰ رسول کریم اتی