خطبات محمود (جلد 10) — Page 280
280 رہے ہیں۔پھر صرف انگلستان میں ہی اس افتتاح کا چرچا نہیں بلکہ تمام ملکوں اور تمام زبانوں میں اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے۔اور تمام دنیا کے خیالات میں یک لخت عجیب تغیر پیدا ہو رہا ہے۔چنانچہ آج ہی جدہ سے ایک خط آیا ہے جس میں لکھا ہے کہ یہاں ہم سلسلہ کی کتب لوگوں کو پڑھنے کے لئے دیتے تھے۔لیکن لوگ کبھی اس طرف توجہ نہیں کرتے تھے اور نہ کبھی کتابیں ہی پڑھتے تھے۔لیکن اب ہمارے گھروں میں آ آکر لٹریچر مانگتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف انگلستان میں بلکہ تمام دنیا میں سلسلہ کی طرف رغبت پیدا ہو رہی ہے۔اور ضرور ہے کہ یہ غیر معمولی اور عالمگیر رغبت اپنا رنگ لائے کیونکہ جب لوگ ہمارے لٹریچر کا مطالعہ شروع کریں گے اور ہماری باتیں توجہ سے سنیں گے تو ان کی خوشبو خود بخود ان کو متوالا کرے گی۔کوئی چیز اس وقت تک لوگوں کو اپنی طرف نہیں کھینچتی جب تک لوگ اپنی آنکھوں کو بند رکھتے ہیں اور وہ چیز پردہ اخفا میں رہتی ہے۔لیکن جب لوگ اس چیز کو کھولتے ہیں یا وہ خود ظاہر ہوتی ہے تو اس کی خوشبو دلوں کو مائل کرتی چلی جاتی ہے اور لوگ شکار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔جب اس افتتاح مسجد کی تقریب سے نہ صرف انگلستان میں بلکہ تمام دنیا میں سلسلہ کی طرف ایک زبردست رو چلنی شروع ہوئی تو اب ہمارے لئے اس عذر کی کوئی گنجائش نہیں رہی کہ لوگ توجہ نہیں کرتے بلکہ اب سوال یہ باقی ہے کہ ہم ان کی توجہ سے فائدہ اٹھائیں اور کس طرح اٹھائیں۔دنیا میں کسی قوم کے غالب آنے کے لئے پہلی چیز یہ ہے کہ اس کا رعب دلوں میں بیٹھ جائے۔جب رعب دلوں میں بیٹھ جائے تو اس کے بعد دنیا کو فتح کرنا آسان ہو جاتا ہے۔کیونکہ رعب وہ چیز ہے جو اصل طاقت و قوت سے بھی بہت زیادہ مفید ہے۔دیکھو رسول کریم انا نے جن چند باتوں پر فخر کیا ہے ان میں سے ایک رعب ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ میری نصرت رعب سے ہوئی ہے دور دراز کے فاصلہ پر بھی دشمن کے دل میرے خوف اور رعب سے کانپ رہے ہیں۔آپ نے یہ نہیں فرمایا نصرت بالجند کہ لشکروں کے ساتھ مجھے نصرت دی گئی ہے۔یہ اس لئے کہ دنیا میں جو اثر رعب کرتا ہے۔وہ دنیا کی کوئی اور طاقت نہیں کرتی۔لشکر وہ اثر نہیں کرتے جو رعب کرتا ہے۔اور قوت و طاقت وہ نتائج نہیں پیدا کرتی جو رعب پیدا کرتا ہے۔کیونکہ رعب خیالات کو منتشر کر دیتا ہے اور تمام طاقتوں کو کمزور اور پراگندہ کر دیتا ہے۔پس رعب کا دنیا کی کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی۔پنجاب میں ایک لطیفہ مشہور ہے۔جو بظاہر تو لطیفہ کا رنگ اپنے اندر رکھتا ہے مگر اس میں